بی ایس سی نرسنگ میں داخلہ کیلئے اہلیتی معیار میں نرمی کیلئے ریاستی حکومت سے طلبہ کا مطالبہ

   

حیدرآباد ۔27 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں طلبہ نے ریاستی حکومت اور کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس سے پرزور مطالبہ کیا کہ بی ایس سی نرسنگ کورس میں داخلہ کیلئے اہلیتی معیار میں نرمی کی جائے کیونکہ دو ویب کونسلنگ کے بعد 6,500 کے منجملہ 3000 نشستیں مخلوعہ ہیں۔ کئی ریاستوں بشمول ٹاملناڈو، آندھراپردیش، چھتیس گڑھ، پنجاب میں اہلیتی معیار میں نرمی پیدا کی گئی اور کسی رینک اساس کے بغیر ایمسیٹ کوالیفائیڈ طلبہ کو منتخب کیا گیا۔ تلنگانہ میں بی ایس سی (نرسنگ) تعلیم کے تقریباً 102 نرسنگ کالجس ہیں۔ کالوجی راؤ یونیورسٹی کے تحت مذکورہ بالا کالجس میں طلبہ کے داخلوں کی تعداد 6,500 ہے تاہم اس سال صرف تقریباً 3000 نشستیں ہی پُر ہوئی ہیں۔ بی ایس سی (نرسنگ) میں داخلے گذشتہ دس سال سے انٹرمیڈیٹ میں بائیولوجی، فزکس اور کیمسٹری میں حاصل کئے جانے والے نشانات کی اساس پر دیئے جارہے تھے۔ تاہم اس سال یونیورسٹی نے ایڈمیشن سسٹم میں تبدیلی کی اور کنوینر کوٹہ سیٹس کیلئے 63,000 تک ایمسیٹ رینک اور انڈین نرسنگ کونسل کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق مینجمنٹ کوٹہ سیٹس کیلئے نیٹ رینک کو شروع کیا ہے۔ مذکورہ بالا رینک حاصل نہ کرپانے والے کئی طلبہ ہیں جنہیں منتخب نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں طلبہ کی جانب سے ہیلت سکریٹری کو تحریر کردہ ایک مکتوب میں کہا گیا کہ بی ایس سی نرسنگ کورس میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہاں زیادہ تر طلبہ دوردراز علاقوں بالخصوص قبائیلی علاقوں کے ہیں جہاں ایمسیٹ اور نیٹ میں اچھے نشانات حاصل کرنے خاطرخواہ کوچنگ سنٹرس دستیاب نہیں ہیں۔ طلبہ نے کہا کہ داخلوں کیلئے اہلیتی معیار میں نرمی سے غریب طلبہ کی مدد ہوگی۔