نئی دہلی۔30 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے اتر پردیش کی گھوسی پارلیمانی نشست سے ایم پی اور عصمت دری کے الزام میں جیل میں بند اتل رائے کو جمعرات کو راحت دیتے ہوئے حلف کے لئے انہیں کسٹڈی پیرول پر دہلی لے جانے کی اجازت دے دی۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ہیمنت گپتا کی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ میں دخل دینے سے انکار کر دیا، جس میں رائے کو رکن پارلیمنٹ کے طور پر حلف لینے کے لئے دو دن کا کسٹڈی پیرول دیا تھا۔اس کے ساتھ ہی بہوجن سماج پارٹی کے ایم پی جمعہ کو پارلیمنٹ میں حلف لے سکیں گے ۔عصمت دری متاثرہ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور انہیں ملنے والے پیرول پر روک لگانے کی مانگ کی تھی۔عدالت نے عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس میں دخل نہیں دے گی۔قابل غور ہے کہ 17 مئی 2019 کو بھی سپریم کورٹ کی تعطیلی بنچ نے اتل رائے کو گرفتاری پر راحت دینے سے انکار کر دیا تھا اور بعد میں انہوں نے خود سپردگی کر دی تھی۔دراصل اتل رائے کے خلاف یکم مئی 2019 کو ایک طالبہ نے عصمت دری کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس سلسلہ میں وارانسی میں ایف آئی آر درج کی گئی لیکن اتل رائے پولیس کی گرفت میں نہیں آئے ۔ پولیس ان کی مسلسل تلاش کر رہی تھی، اسی وجہ سے لوک سبھا انتخابات کے پرچار میں بھی وہ نہیں گئے اور ویڈیو کے ذریعہ مہم چلاتے رہے ۔وہ گزشتہ سال 23 مئی کو آئے نتیجوں میں لوک سبھا انتخابات جیت کر ممبر پارلیمنٹ بن گئے ۔ اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ابھی تک ممبر پارلیمنٹ کے طور پر حلف بھی نہیں لے پائے ہیں۔