سابق کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل کا اہم بیان
ممبئی ۔ 18؍جنوری ( ایجنسیز۔ )مہاراشٹرا میں بلدیاتی انتخاب کے نتائج آ چکے ہیں۔ بی جے پی نے اس انتخاب میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس انتخاب پر پورے ملک کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ اس درمیان سابق کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن سمیت مہاراشٹرا کے 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابی نتائج سامنے آئے ہیں، جو مہاراشٹرا اور قومی سطح پر ہونے والے آئندہ انتخابات کیلئے کچھ اشارے پیش کرتے ہیں۔ اتوار 18 جنوری کو ایک انٹرویو کے دوارن کپل سبل نے کہا کہ اس انتخاب میں سب کا نقصان ہوا صرف بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کی ایک حکمت عملی رہی ہے، پہلے پاس اس کے بعد بنواس۔ بی جے پی کو جن ریاستوں میں لگتا ہے کہ وہ وہاں کمزور ہے اور اسے وہاں ووٹ نہیں ملیں گے، وہ جیت نہیں پائے گی تو وہ چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتی ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد انہیں حاشیہ پر ڈھکیل دیتی ہے۔ جیسے ہریانہ میں لوک دل کے ساتھ کیا۔ راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کا کانگریس کے ساتھ براہ راست مقابلہ ہے جیسے اترپردیش میں، وہاں پارٹی کبھی کسی سے سمجھوتہ نہیں کرتی اور اگر کرتی ہے تو بالواسطہ طور پر کرتی ہے۔ دھمکی دے کر یا ای ڈی وغیرہ کو پیچھے لگا کر ایسے میں یہ پارٹیاں بی جے پی کی حمایت کرتی ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ بہار میں بی جے پی نے جے ڈی یو کے ساتھ مل کر انتخاب لڑا اور بڑی پارٹی بن گئی بعد میں جے ڈی یو کو حاشیہ پر رکھ دیا۔کپل سبل کا کہنا ہے کہ اب بی جے پی ٹاملناڈو میں بھی یہی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہاں کی سیاست مختلف ہے۔ وہاں وہ ناکام ہوئے تو انہوں نے اب مندر کی سیاست شروع کر دی ہے۔ وہاں کے پنڈتوں کو اترپردیش لے جاتے ہیں، اس طرح سے یہ لوگ وہاں مندر کی سیاست کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگال میں بی جے پی کے ساتھ کوئی نہیں جائے گا تو انہیں براہ راست انتخاب لڑنا ہوگا۔ کیرالا میں بھی ان کے ساتھ کوئی نہیں وہاں بھی انہیں پریشانی ہوگی۔