تنظیم آواز کا سمینار، محترمہ سبھاشنی علی اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 7 مئی (سیاست نیوز) ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں پر آئین کی بالادستی رہی ہے مگر پچھلے کچھ سال سے ملک کی مرکز میںبرسراقتدار سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) ملک کو آئین کے مطابق چلانے کے بجائے منوسمرتی پر ملک چلارہی ہے۔ تاکہ مساوات کے نظام کا مکمل طور پر ملک سے خاتمہ کردیاجائے او رمنو واد کو بڑھاوا دے کر ملک کے تمام اقلیتوں جس میں مسلمانوں کے علاوہ عیسائی‘ جین ‘پارسی‘ سکھ شامل ہیں انہیںدوسرے درجے کا شہری بنادیاجائے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا( مارکسٹ) کی سابق رکن پارلیمنٹ لوک سبھا اور صدر آل انڈیا ڈیموکرٹیک ویمنس اسوسی ایشن سبھاشنی علی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔اُردو گھر مغل پور ہ میںہفتہ کی شام فرقہ واریت کا نیا باب کے عنوان پر سی پی آئی ایم کی محاذی تنظیم آواز گریٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سمینار سے وہ مخاطب تھیں ۔ اس سمینار سے ڈاکٹر اقبال جاوید‘ آواز کے ریاستی صدر محمد عباس‘ گریٹر حیدرآباد صدر عبدالستار نے بھی مخاطب کیا۔ محمد مظہر حسین‘ نورجہاں ‘ محمد کلیم او ردیگر شہہ نشین پر موجود تھے ۔ سبھاشنی علی نے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ منو سمرتی کے مطابق ملک چلانے کا مقصد ملک سے تمام اقسام کے مساوات کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ منو سمرتی میں ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کو ہی حکمرانی کرنے کا اہل قراردیاہے جبکہ اس طبقے کی نظر میںخواتین کی کوئی اہمیت نہیںہے ۔ اور نہ ہی دیگر پسماندہ طبقات کو وہ اپنے برابر سمجھتے ہیں۔ یہی سونچ اور فکر کو بڑھاوا دینے کاکام پچھلے چھ سال سے انجام دیاجارہا ہے۔انہوں نے فرقہ واریت کے نئے باب کے طور پر ملک میںمسلم اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے پے درپے مظالم کی طرف اشارہ کیا اورکہاکہ مسلسل ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہوئے حکمران جماعت ملک میںمسلم اقلیت کے دلوں میںخوف پیدا کیا جارہا ہے تاکہ انہیں آر ایس ایس کے اس ایجنڈے کو نافذ کرنے میں مدد مل سکے جس کا مقصد ہی منو سمرتی کے قواعد پر عمل آواری ہے۔سا بق لوک سبھا رکن سبھاشنی علی نے کہاکہ ملک میں پچھلے چھ سال میں بے شمار واقعات رونما ہوئے جس میں ایک اہم واقعہ سی اے اے ‘ این آر سی کے خلاف احتجاج شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان بھر میں ایسی کئی ریاستیں تھیں جہاں پر شاہین باغ کے طرز پر احتجاجی دھرنے منظم کرتے ہوئے سی اے اے ‘ این آر سی کی مخالفت کی گئی۔ انہو ںنے کہاکہ ان احتجاجوں میںملک کی تاریخ میںپہلی مرتبہ برقعہ پوش خواتین بغیر کسی خوف اورجھجک کے نہ صرف شامل ہوئیںبلکہ اپنے گھرکے تمام امور مردوں کے سپرد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ہماری آئندہ کی نسلوں کے لئے ہمارا سڑکوں پراترنا ضروری ہے کیونکہ ہمارے ہی ملک میںہمیں پرایاکرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔سبھاشنی علی نے کہاکہ پہلی مرتبہ مسلم خواتین میں یہ جذبہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ اس وقت ہی ممکن ہوا جب ان خواتین ( جو سی اے اے این آر سی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئیں)میں حالات کو سمجھنے کاشعور آیاہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میںبلند بانگ دعوے کرنے والے ‘ نعرے لگانے والے ‘ سکیولرازم او رمسلمانوں سے ہمدردی کے اعلانات کرنے والے سیاسی جماعتوں کے قائدین نئی دہلی کے جہانگیر پوری میں پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد ایم سی ڈی کی انہدامی کاروائی پر خاموش تماشائی بنے رہے ۔ اگر کوئی آگے بڑھے تو وہ کمیونسٹ قائدین ہی تھے۔ انہوں نے بتایاکہ ساری دنیانے دیکھا کیسے سی پی آئی ایم کی لیڈر براندہ کارت اور ساتھی کارکنان بلڈوزر کے سامنے کھڑے ہوگئے اور سپریم کورٹ کے احکامات دکھاکر انہدامی کاروائی کو روکنے پر مجبور کیاہے۔ حکمران جماعت نے تمام آئینی اداروں‘ قانون نافذ کرنے والے ایجنسیوں ‘ کو اپنی مٹھی میںکرلیاہے ۔ آج اگر کوئی عدالت سے رجوع ہوتا ہے تو اس کو اس بات کا ڈر ہے کہ قانون نام او رلباس دیکھ کر ان کے ساتھ رویہ اختیار کرے گا اور انصاف کی جو امیدیں باقی تھیںوہ ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سبھاشنی علی نے کہاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنڈہ ہندوستان کے آئین کو تبدیل کرتے ہوئے منوسمرتی کے مطابق ملک کو چلانا ہے ۔ہم تمام کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے اس ایجنڈے کو عوام تک پہنچائیں اور عوام میںاس کے متعلق شعور بیدار کریں۔ذ