بی جے پی اور بی آر ایس ایک۔ کانگریس کی مشکلات میں اضافہ

,

   

کانگریس دونوں ہی جماعتوں کیلئے مشترکہ دشمن، اقتدار سے روکنا بنیادی مقصد، کانگریس کا عوام پر انحصار
حیدرآباد7جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقتدار کے حصول کیلئے کانگریس پارٹی کا راستہ آسان نہیں رہے گا۔ بی آر ایس اور بی جے پی بظاہر دو علحدہ ایک دوسرے کی حریف پارٹیاں دکھائی دے رہی ہیں لیکن دونوں کا اصلی نشانہ کانگریس ہے، لہذا دونوں نے مشترکہ حکمت عملی کے ذریعہ کانگریس کو اقتدار سے روکنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد تلنگانہ پر واضح اثر دکھائی دینے لگا ہے اور کئی سروے رپورٹس میں کانگریس کے اقتدار کی پیش قیاسی کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہری علاقوں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی ووٹرس میں کانگریس کی تائید کے بارے میں گفتگو کی جانے لگی ہے ۔ اس طرح کانگریس بی آر ایس کے ساتھ اصل مقابلہ میں کھڑی ہوچکی ہے۔ ریاست میں اگر مقابلہ حقیقی معنوں میں سہ رخی ہوتا ہے تو کانگریس کیلئے اقتدار کا راستہ آسان رہیگا لیکن موجودہ صورتحال میں سہ رخی مقابلہ کے بجائے کانگریس کا بی آر ایس اور بی جے پی خفیہ اتحاد سے مقابلہ دکھائی دے رہا ہے ۔ کانگریس قیادت نے راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو تلنگانہ انتخابی مہم کے اسٹار کیمپینر کے طور پر مقرر کیا ہے لیکن مرکز اور ریاست میں برسر اقتدار پارٹیوں سے مقابلہ کرنا آسان نہیں رہے گا۔ دونوں برسر اقتدار پارٹیاں سرکاری مشنری اور دولت کے استعمال کے ذریعہ کانگریس کے راستہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں لیکن یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ ریاست اور اپنی بھلائی کیلئے تینوں میں کسے پسند کریں گے۔ کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر بی آر ایس اور بی جے پی نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے بجائے کانگریس کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ دونوں پارٹیاں کانگریس کے قومی قائدین اور ریاستی قائدین کو نشانہ بنارہے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مرکز اور تلنگانہ میں برسر اقتدار پارٹیوں کے پاس دولت کی فراوانی ہے جس کا الیکشن میں بھرپور استعمال ہوگا۔ تلنگانہ کے ساتھ بھلے ہی مرکز کا رویہ ناانصافی پر مبنی کیوں نہ ہو لیکن کانگریس کو اقتدار سے روکنا دونوں پارٹیوں کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ عوام کے درمیان بظاہر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بی آر ایس اور بی جے پی ایک دوسرے کے کٹر حریف ہیں لیکن جس پالیسی پر دونوں عمل پیرا ہیں، اس سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں کا اصل نشانہ کانگریس ہے کیونکہ اگر تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آتی ہے تو 2024 ء کے لوک سبھا انتخابات میں ملک بھر میں کانگریس کے اچھے دن شروع ہوجائیں گے۔ ویسے بھی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب کبھی سابقہ آندھراپردیش میں کانگریس برسر اقتدار رہی ، مرکز میں بھی کانگریس کی حکومت رہی۔ بی جے پی کو تلنگانہ سے زیادہ مرکز میں اپنی حکومت کو بچانے کی فکر ہے جبکہ بی آر ایس نہیں چاہتی کہ اس کے 10 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوجائے۔ انتخابی مہم میں دولت کے استعمال کے معاملہ میں کانگریس بی آر ایس اور بی جے پی سے پیچھے ہے اور کانگریس کے امیدواروں کو اپنے طور پر انتخابی اخراجات کا انتظام کرنا ہوگا۔ بی آر ایس اور بی جے پی اپنے امیدواروں کو انتخابی مہم کے لئے مناسب فنڈس ضرور جاری کریں گے لیکن کانگریس پارٹی اس موقف میں نہیں ہے کیونکہ وہ گزشتہ 10 برسوں سے اپوزیشن میں ہے۔ تلنگانہ میں حالیہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی اور بی آر ایس نے ہر اسمبلی حلقہ میں فی کس 200 کروڑ سے زائد خرچ کئے ، اگر یہی رجحان اسمبلی انتخابات میں جاری رہا تو کانگریس کے لئے فنڈس کی فراہمی اہم مسئلہ بن سکتی ہے ۔ کانگریس کا انحصار حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کی لہر پر ہے ۔ کیا یہ لہر اسمبلی انتخابات تک برقرار رہے گی؟ کانگریس نے مختلف طبقات کیلئے انتخابی وعدوں کا ابھی سے آغاز کردیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ خواتین اور معمرین کو 4000 روپئے ماہانہ پنشن، آروگیہ شری اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپئے تک مفت علاج کی سہولت ، 500 روپئے میں غریبوں کو گیاس سلینڈر کی سربراہی ، غریبوں کو مکانات کی تعمیر کیلئے تین لاکھ روپئے کی امداد جیسے وعدوں نے کانگریس کو رائے دہندوں کے درمیان بحث کا موضوع بنادیا ہے ۔ عوام میں کانگریس کے حق میں لہر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر ضلع میں بی آر ایس اور بی جے پی کے مضبوط قائدین کانگریس میں شمولیت کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ر