تعلیمی قابلیت کے تعلق سے الیکشن کمیشن سے غلط بیانی کا ادعا ۔ مسئلہ کمیشن سے رجوع
حیدرآباد 10 اپریل ( سیاست ڈاٹ کم ) بی جے پی کے لوک سبھا حلقہ نظام آباد کے رکن ڈی اروند کو نا اہل قرار دئے جانے کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت کے تعلق سے الیکشن کمیشن سے غلط بیانی کی تھی اور گمراہ کن اطلاع دی تھی ۔ اروند نے نظام آباد حلقہ سے ٹی آر ایس سربراہ و چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راو کی دختر کے کویتا کو شکست سے دوچار کردیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ انہہوں نے الیکشن کمیشن میں اپنی تعلیمی قابلیت کے تعلق سے جھوٹا حلفنامہ داخل کیا تھا ۔ انتخابی حلفنامہ کے مطابق ڈی اروند نے ادعا کیا کہ وہ پولیٹیکل سائینس میں پوسٹ گریجویٹ (ایم اے ) ہیں۔ انہوں نے جناردھن رائے نگر راجستھان ودیاپیٹھ ادئے پور ( راجستھان ) سے یہ ڈگری فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ حاصل کی ہے ۔ ڈی اروند کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کورس 2018 میں کامیاب کیا ہے ۔ تاہم ٹی آر ایس لیڈر ایم کرشانک کی داخل کردہ ایک آر ٹی آئی درخواست پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ ڈی اروند نے ایم اے ( پولیٹیکل سائینس ) کی تعلیم اس یونیورسٹی سے حاصل ہی نہیں کی ۔ کرشانک سابق مرکزی وزیر و سینئر کانگریس لیڈر سروے ستیہ نارائنا کے داماد ہیں۔ یونیورسٹی کے ڈائرکٹر نے کرشانک کو اپنے جواب میں بتایا کہ لوک سبھا کے رکن ڈی اروند نے یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائینس میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل نہیں کی ہے ۔ وہ اس یونیورسٹی کے طالب علم کبھی رہے ہی نہیں۔ اس ساری حقیقت کو ٹی آر ایس لیڈر وائی ستیش ریڈی نے الیکشن کمیشن اور وزیر اعظم نریندر مودی کے علم میں لایا اور مطالبہ کیا کہ کمیشن کو بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔ ستیش ریڈی نے کہا کہ ڈی اروند نے اپنے پرچہ نامزدگی میں جھوٹی اطلاع فراہم کی ہے ۔ یہ قابل قبول نہیں ہے اور وہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے کے اہل نہیںہیں۔ انہیں نا اہل قرار دیا جانا چاہئے ۔
