بی جے پی جعلی ووٹ بنوا کر ’انتخابی گھپلہ‘ میں مصروف :اے اے پی

   

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی ارکان پارلیمنٹ سمیت دیگر جعلی پتوں پر بڑے پیمانے پر جعلی ووٹ بنواکر بی جے پی ’انتخابی گھوٹالہ‘کررہی ہے۔سینئر اے اے پی لیڈر اور ایم پی سنجے سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ مرکزی وزراء اور ایم پیز الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں اور اس کی ساکھ کے ساتھ کھلواڑ کرکے انتخابی گھپلہ کررہے ہیں۔ نئی دہلی اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار پرویش ورما سابق ایم پی ہیں۔ اس کے باوجود پرویش ورما مئی 2024سے لے کر آج تک پچھلے آٹھ ماہ سے ایم پی کے بنگلے پر قابض ہیں۔ پرویش ورما نے اپنے سرکاری بنگلہ کے پتے پر 33 ووٹ بنوانے کے لیے درخواست جمع کرائی ہے ۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے اپنے سرکاری بنگلہ کے پتے پر 26ووٹ، مرکزی وزیر کملیش پاسوان نے اپنے پتے پر 26 ووٹ بنوانے کیلئے درخواست دی ہے ۔ اس کے علاوہ ایک ایم پی کا پتہ مکھرجی اسمرتی نیاہ ہے جہاں 31ووٹ بنوانے کی عرضی دی گئی ہے ۔
تیرہ تین مورتی لین میں اتر پردیش کے ہردوئی کے رہنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ جے پرکاش کے پتے پر 25 ووٹ بنوانے کے لیے درخواست دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ راجستھان سے بی جے پی ایم پی سی پی جوشی 14 ونڈسر پلیس پر رہتے ہیں۔ انہوں نے اس ایڈریس پر 28 ووٹ بنوانے کے لئے درخواست دی ہے ۔ اسی طرح 24 مینا باغ پتے پر رہنے والے ایم پی نے 23 ووٹ بنوانے کے لیے درخواست دی ہے ۔ سکس مہادیو روڈ پر رہنے والے ایم پی کے پتے پر 22 ووٹ ہیں، 513 نورنگ ہاؤس میں ایک دفتر ہے اور یہاں پر 23 ووٹ بنوانے کی درخواستیں دی گئی ہیں۔مسٹر سنگھ نے کہا کہ 87 بیسمنٹ جورباغ لودھی روڈ کے پتے پر 20 ووٹ بنوانے کے لیے درخواست دی گئی، جب کہ بیسمنٹ میں رہائش کا پتہ نہیں دیا جا سکتا۔ این ڈی ایم سی کا فلیٹ پالیکا کنج میں ہے ۔ اس دو بیڈروم فلیٹ میں 19 ووٹ بنوانے کے لئے لیے درخواست دی گئی ہے ۔ اسی طرح دیگر پیٹ پر ووٹ بنوانے کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں دی گئی ہیں۔اے اے پی لیڈر نے کہا کہ جعلی ووٹ بنوانے والوں میں مودی حکومت کے مرکزی وزیر، ممبران پارلیمنٹ، سابق ایم پیزسے لے کر ایسے پتے پر ووٹ بنوائے گئے ہیں، جن کا کوئی پتہ نہیں ہے اور نہ ان ووٹر کے بارے میں کوئی معلومت ہے ۔ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ اپنی پارٹی کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کہتے ہیں اور اس طرح کا فراڈ کرکے الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ آپ ملک کی راجدھانی دہلی میں انتخابی دھاندلی کر رہے ہیں۔ کیا یہ آپ کا الیکشن لڑنے کا طریقہ ہے ؟