نظام آباد: ہمارے ملک میں اکثریت غریب عوام کی ہے اور غریب عوام کے بہتر مستقبل کے لئے لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے ان کے لئے فلاحی اسکیمات نافذ کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار رکن قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور میں چاہے وہ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومت غرباء کے لئے فلاحی اسکیمات نافذ کرتے آئے ہیں۔ لیکن آج پورے ملک میں مرکز کی بی جے پی حکومت ایک عجیب و غریب ماحول بنارہی ہے اور غریبوں کے لئے نافذ کردہ فلاحی اسکیمات کو فری بی کا نام دے کر یہ چاہ رہی ہے کہ ان کو فری بی فراہم نہ کیا جائے۔ یعنی فلاحی اسکیمات بند کردئے جائیں۔دختر وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ سب سے پہلے مرکزی حکومت سے یہ اپیل کرتی ہیں کہ غریبوں کیلئے نافذ کردہ فلاحی اسکیمات کو فری بی نہ کہیں ،کیوں کہ اس طرح سے ان کے بے حرمتی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غریب افراد کی خدمت کرنا ہی ہمارافریضہ ہے۔ ٹی آر ایس قائد نے کہاکہ مودی حکومت کی جانب سے دس لاکھ کروڑ کا جو قرض معاف کیا گیا وہ فری بی ہے، جو بینکس کو لوٹ کر ملک سے فرار ہوگئے اور ان کے قرض کو معاف کردیا گیا وہ فری بی ہے۔ غریبوں کے علاج، ان کے بچوں کی تعلیم اور دیگر فلاحی اسکیمات فری بی نہیں کہلائی جاتیں۔