پارٹی قائدین پر تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچا نے کا الزام
حیدرآباد: وزیر فینانس ہریش راؤ نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف قوم پرستی کافی نہیں ہے، علاقہ پرستی بھی لازمی ہے ۔ تلنگانہ بی جے پی صدر بنڈی سنجے کو ریاست کیلئے ایک بھی قومی پراجکٹ لانے پر اسمبلی میں تہنیت پیش کرنے کا چیلنج کیا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہریش راؤ نے بی جے پی قائدین کی جانب سے فرقہ پرستی پھیلانے پر تنقید کی اور کہا کہ عہدے مستقل نہیں ہوتے جبکہ ریاست مستقل رہتی ہے ۔ بی جے پی قائدین ریاستی مفادات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ریاست کی حق تلفی پر آواز اٹھانے کی بجائے ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی ٹی آر ایس مذمت کرتی ہے ۔ ملک کے ہر شہری کو قوم پرستی عزیز ہوتی ہے ، مگر بنڈی سنجے و بی جے پی قائدین کے پاس علاقہ پرستی کا فقدان ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ راج شیکھر ریڈی حکومت میں کے سی آر اور ٹی آر ایس کے دوسرے وزراء نے تلنگانہ کے مفادات کی خاطر وزارتوں سے استعفیٰ دیا، اسی وقت کانگریس کے آنجہانی قائد پی جناردھن ریڈی نے ہی ہمارا ساتھ دیا تھا ۔