بی جے پی میں شمولیت کے بعد ایٹالہ راجندر کا سیکولرازم بے نقاب

   

مرکز کے زرعی قوانین اور ٹیکہ اندازی پر کی گئی تنقید فرضی تھی ، کڈیم سری ہری کا الزام
حیدرآباد :۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے اپنی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے سیکولرازم اور کمیونزم کو فرقہ پرست بی جے پی کے پاس رہنے رکھدینے کا ایٹالہ راجندر پر الزام عائد کیا ہے ۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کڈیم سری ہری نے کہا کہ ایٹالہ راجندر نے ڈوبتی ہوئی کشتی میں قدم رکھا ہے ۔ ان کے ہمراہ جتنے بھی قائدین بی جے پی میں شامل ہوئے وہ بھی ایٹالہ راجندر کے ساتھ ڈوب جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ ہی ریاست میں بی جے پی کا کوئی کیڈر ہے ۔ صرف فرقہ پرستی کے علاوہ بی جے پی کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے ۔ اپنے آپ کو سیکولر اور کمیونسٹ نظریات کے حامل قرار دینے والے ایٹالہ راجندر نے ٹی آر ایس میں رہنے تک بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ اس کی پالیسیوں کی پر زور مخالفت کی تھی ۔ اب صرف مختص کردہ اراضیات اور منادر کی اراضیات جو ان کے قبضہ میں ہے اس کو بچانے کے لیے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں اور سیاسی زندگی دینے والے چیف منسٹر کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کل تک مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کو سیاہ قانون قرار دے رہے تھے اور ٹیکہ اندازی کی پالیسی پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ۔ تعجب ہے آج بی جے پی کی گود میں بیٹھ گئے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ایٹالہ راجندر کو تنظیم اور وزارت میں اہم عہدے دئیے ہیں پارٹی میں ان کا احترام کیا ہے ۔ لیکن انہوں نے بے وفائی کی ہے ۔۔