بی جے پی میں مودی کیخلاف بغاوت زور پکڑ نے لگی

   

یوگی آدتیہ ناتھ سب سے آگے

ارون سریواستو
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے 15 فروری 2026 کو دہلی کی فضائی آلودگی کا موازنہ ایک ‘‘گیس چیمبر’’ سے کرنا ایک اہم سیاسی بحث کا سبب بنا ہے اور بظاہر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اندر گہرے ہوتے قیادتی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ یوگی عموماً ایک دور اندیش سیاست دان کے طور پر معروف نہیں رہے جن میں باریک بینی سے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت یا عوامی فلاح پر مبنی طرزِ حکمرانی میں مہارت پائی جاتی ہو۔
کافی عرصے سے یوگی کا ‘‘گجراتی جوڑی’’ کے ساتھ اختلاف چل رہا ہے، جو انہیں زعفرانی سیاسی نظام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے۔ ان کی توقعات کے برعکس، یوگی نے اتر پردیش کو اپنی ترجیحات کے مطابق چلایا ہے اور مودی۔ا شاہ اتحاد کی مداخلت کی مسلسل مزاحمت کی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوگی اس قیادت پر حملہ کرنے کیلئے مناسب وقت کے منتظر تھے، اور وہ لمحہ شاید آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے مودی۔امت شاہ اتحاد کے خلاف بڑھتے ہوئے جارحانہ مؤقف کے درمیان آ پہنچا ہے۔
یوگی نے اپنی تنقید کے لیے ایک نہایت حساس مسئلہ،فضائی آلودگی،کا انتخاب کیا، جو شہری متوسط طبقے میں گہری گونج رکھتا ہے۔ انہوں نے دہلی کی فضا کو ‘‘گیس چیمبر’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سانس لینا مشکل ہے اور آنکھوں میں جلن ہوتی ہے، جبکہ ساتھ ہی اتر پردیش کی صاف ہوا کی تعریف بھی کی۔ اگرچہ بظاہر یہ بیان دہلی حکومت کو ہدف بنا کر دیا گیا، مگر اس میں وسیع تر سیاسی اشارے بھی پوشیدہ ہیں۔
دہلی کے ‘‘دم گھونٹنے والے’’ حالات کا موازنہ اتر پردیش میں ماحولیاتی انتظام، خصوصاً اپنے آبائی ضلع گورکھپور میں کیے گئے اقدامات سے کرتے ہوئے، یوگی نے اپنی حکومت کے اقدامات کو نمایاں کیا۔ ان کے بیانات کی دوٹوک انداز ایک ایسے وزیر اعلیٰ کی جانب سے جو مرکزی قیادت کے قریب سمجھا جاتا ہے۔پارٹی کے اندر سیاسی گنجائش کی جاری کشمکش کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ وزرائے اعلیٰ عموماً طے شدہ حدود میں رہ کر بات کرتے ہیں، مگر قومی دارالحکومت کے حالات پر یوگی کی کھلی تنقید بی جے پی کی صفوں میں طرزِ حکمرانی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلاف کی علامت ہے۔
2025 سے وزیر اعظم نریندر مودی کو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، اگرچہ مؤخرالذکر نے اپنے بیانات کو احتیاط سے متوازن رکھا ہے اور براہِ راست برتری کی جنگ کا اعلان کرنے سے گریز کیا ہے۔
اپنے نپے تلے اور باریک اندازِ بیان کے لیے معروف بھاگوت نے ملے جلے اشارے دیے ہیں۔ اگرچہ یوگی باضابطہ طور پر آر ایس ایس کے تنظیمی ڈھانچے کا حصہ نہیں ہیں، تاہم بھاگوت سے ان کی قربت تسلیم شدہ ہے۔ گورکھپور میں ہندو یووا واہنی کی بنیاد رکھنے کے بعد یوگی ایک سخت گیر چہرے کے طور پر ابھرے، جو بھاگوت کے نظریاتی وڑن سے ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے۔زعفرانی سیاسی نظام کے طرزِ عمل میں یہ غیر معمولی بات ہے کہ بی جے پی کا کوئی سینئر وزیر اعلیٰ کھل کر قومی دارالحکومت کی حکمرانی پر تنقید کرے، جو پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے منسوب سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ فروری 2026 میں دہلی کی فضائی آلودگی خطرناک حد تک برقرار ہے اور پی ایم 2.5 کی سطح عالمی سطح پر بلند ترین درجوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن لکھنؤ اور گورکھپور جیسے شہروں کے حالات بھی مثالی نہیں ہیں۔
دونوں شہر صنعتی اور گاڑیوں کے دھوئیں کے باعث اکثر ‘‘غیر صحت بخش’’سے ‘‘خراب’’ فضائی معیار ریکارڈ کرتے ہیں۔ اس طرح گورکھپور کے ماحول کی یوگی کی تعریف، اور دہلی کے لیے ‘‘گیس چیمبر’’ کا لفظ استعمال کرنا، درحقیقت قومی دارالحکومت کی حکمرانی پر تنقید کے مترادف ہے۔دہلی پر یوگی کی تنقید نے ان کی شبیہ ایک ‘‘طاقتور رہنما’’ کے طور پر مضبوط کی ہے، جو مرکزی قیادت کے مقابل ایک خودمختار اور جرات مندانہ انداز اپناتے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ آر ایس ایس کے مودی کے حوالے سے ممکنہ طور پر سخت ہوتے مؤقف کی بھی نشاندہی کرتا ہے 2026۔ 2025کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں مودی اور یوگی کے درمیان تعلقات زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ یوگی کے بیانات بالواسطہ طور پر ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مرکزی قیادت کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں، جبکہ اتر پردیش کو نسبتاً بہتر انتظام شدہ ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سابق فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور موجودہ ہارورڈ پروفیسر گیتا گوپی ناتھ کے مشاہدات نے بھی حکمرانی سے متعلق دعوؤں پر تنقید کو تقویت دی ہے۔
جنوری 2026 میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ فضائی آلودگی بھارت کی طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے تجارتی محصولات کے مقابلے میں زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق آلودگی سے متعلق صحت کے اخراجات اور پیداواری صلاحیت میں کمی بھارت کی جی ڈی پی کو سالانہ تقریباً 9.5 فیصد تک کم کر سکتی ہے، جبکہ ہر سال تقریباً 17 لاکھ اموات فضائی آلودگی سے منسلک ہیں۔ یہ بیانات خاص طور پر شمالی بھارت میں ماحولیاتی تباہی سے پیدا ہونے والے ساختی خطرات کو نمایاں کرتے ہیں۔ چنانچہ دہلی کو نشانہ بنانا یوگی کی جانب سے نریندر مودی کی سیاسی شبیہ کو کمزور کرنے کی ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ادھر بی جے پی کے اندرونی ذرائع کے مطابق داخلی اختلافات زور پکڑ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی—جو پہلے مارگ درشک منڈل تک محدود کر دیے گئے تھے،نے مودی کے خلاف ایک مفصل ‘‘احتسابی رپورٹ’’ تیار کی ہے۔ اگرچہ میڈیا کے کچھ حلقے اس کی تردید کرتے ہیں، لیکن باخبر ذرائع اس کے برعکس دعویٰ کرتے ہیں۔