جب جب کسی ریاست میں الیکشن منعقد شدنی ہوتے ہیں تو وہاں دھاوے شروع کرتے ہوئے
سیاسی بحران پیدا کیا جاتا ہے، راجستھان کے وزیراعلیٰ گہلوٹ کے متعدد ٹوئیٹس
نئی دہلی : راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوٹ نے مودی حکومت کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ مودی حکومت مبینہ طور پر جب جب کسی ریاست میں انتخاابات منعقد شدنی ہوتے ہیں تو وہاں یا تو سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) اور محکمہ انکم ٹیکس جیسے اداروں کا بیجا استعمال کیا جاتا ہے یا پھر ان ریاستوں میں سیاسی بحران پیدا کردیا جاتا ہے۔ گہلوٹ نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب اترپردیش میں انتخابات کا جلد ہی انعقاد ہونے والا ہے تو وہاں سی بی آئی نے دھاوؤں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ یاد رہیکہ پیر کے روز سی بی آئی نے 189 افرادجن میں 16 سرکاری ملازمین بھی ہیں، کے خلاف 1437 کروڑ روپئے مالیت کے گومتی ڈیولپمنٹ پراجکٹ میں مبینہ بے قاعدگیوں کا معاملہ درج کیا ہے۔ مذکورہ پراجکٹ کو سماج وادی پارٹی کے دوراقتدار میں شروع کیا گیا تھا جس کی قیادت اس وقت کے وزیراعلیٰ اکھیلیش یادو کررہے تھے۔ معاملات درج کرنے کے بعد سی بی آئی کے عہدیداروں نے اترپردیش، راجستھان اور کولکاتہ (مغربی بنگال) کے 13 اضلاع کے 42 مقامات پر دھاوے کئے۔ ہندی میں کئے گئے اپنے متعدد ٹوئیٹس کے ذریعہ مسٹر گہلوٹ نے کہا کہ جب جب کسی بھی ریاست میں انتخابات ہونے والے ہوتے ہیں تو سی بی آئی، انکم ٹیکس اور ای ڈی کو خصوصی ہدایتیں جاری کی جاتی ہیں یا پھر ان ریاستوں کے سیاسی حالات بگاڑ دیئے جاتے ہیں لہٰذا یوپی میں چونکہ اب الیکشن سر پر ہیں تو سی بی آئی بھی حرکت میں لائی جاچکی ہے جس کا نتیجہ دھاوؤں کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اداروں کا ماضی میں بھی مغربی بنگال، راجستھان، مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں بیجا استعمال کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایجنسیوں کا یہ طرہ امتیاز رہا ہیکہ وہ ہمیشہ غیرجانبدارانہ طور پر اپنی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ تاہم بی جے پی اپنے سیاسی ایجنڈہ کی تکمیل کیلئے جس طرح ان اداروں پر حکم چلا رہی ہے اس سے ان اداروں کا وقار مجروح ہوا ہے حالانکہ ان اداروں سے وابستہ بیشتر افسران بھی یہ بات جانتے ہیں تاہم وہ کارروائی کرنے پر مجبور ہیں۔ مجھے یقین ہیکہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ عوام بی جے پی کو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے جو مذکورہ اداروں کا غلط سیاسی استعمال کررہی ہے۔ واضح رہیکہ آئندہ سال کے پہلے سہ ماہی میں اترپردیش میں انتخابات کا انعقاد عمل میں آئے گا۔