بی جے پی پر مذہبی جنون کا پاگل پن سوار ہے : چیف منسٹر کے سی آر

   

حیدرآباد 17 نومبر ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ بی جے پی پر مذہبی جنونیت کا پاگل پن سوار ہے ملک میں ہندوتوا کی تحریک چلانے والی بی جے پی اس کی لپیٹ میں تلنگانہ کو شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ مگر جب تک تلنگانہ میں کے سی آر زندہ ہے بی جے پی کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونگے اور تلنگانہ سیکولر رہیگا ۔ آج چیف منسٹر کے سی آر نے کریم نگر ، چپہ ڈنڈی اور حضور آباد میں بی آر ایس جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی صرف مذہبی جذبات بھڑکاکر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ وزیراعظم مودی نے تلنگانہ کو 25 ہزار کروڑ روپئے روک دئے ۔ ملک کے مختلف ریاستوں کو 157 میڈیکل کالجس منظور کئے گئے تلنگانہ کو ایک بھی نہیں دیا گیا ۔ کانگریس حکومت میں کریم نگر میں ایک بھی میڈیکل کالج نہیں تھا ۔ بی آر ایس حکومت میں چار میڈیکل کالجس منظور کئے گئے ۔ تلنگانہ میں بی آر ایس حکومت نے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج منظور کرنے کا فیصلہ کیا تاحال 20 سے زائد میڈیکل کالجس قائم کردئیے گئے ۔ کریم نگر سے کامیابی کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے ہر مسئلہ کو ہندو مسلم سے جوڑکر فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ تلنگانہ میں 10 سال سے لا اینڈ آرڈر قابو میں ہے ۔ بی جے پی مفاد پرستی کیلئے فرقہ واریت کو بھڑکا رہی ہے ۔بی جے پی کو دیا گیا ووٹ ضائع ہوجائے گا اور فرقہ پرستی کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ اس مرتبہ کریم نگر میں بی آر ایس کی لہر چلے گی اور تمام حلقوں میں بی آر ایس کامیاب ہوگی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس ریاست میں تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کریگی ۔ عوام بی آر ایس کے ساتھ ہیں ۔ کانگریس اور بی جے پی قائدین 30 نومبر تک تماشہ کریں گے مگر 3 دسمبر کو نتیجہ بی آر ایس کے حق میں آئیگا ۔ انتخابات آتے اور جاتے ہیں عوام کام کرنے والی جماعتوں و امیدواروں کو کامیاب بنائے ۔ کریم نگر کے عوام با شعور ہیں ۔ کانگریس و بی جے پی کے قائدین انتخابات میں ہی عوام میں رہتے ہیں ۔ کانگریس کو ووٹ دیا گیا تو دھرانی پورٹل ختم کردیا جائیگا ۔ کسانوں کے بینک کھاتوں میں رعیتو بندھو اسکیم کی رقم جمع نہیں ہوگی ۔ زرعی شعبہ 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ نہیں ہوگی ۔ عوام کو 24 گھنٹے برقی سربراہ نہیں ہوگی ۔ کانگریس نے منشور جاری کیا جس میں دھرانی پورٹل ختم کرکے بھوبھارتی لانے کا اعلان کیا ہے ۔ 30 تا 40 سال قبل کانگریس نے بھوبھارتی متعارف کرایا تھا تب بھی درمیانی افراد کا غلبہ تھا ۔ کانگریس عوام سے ایک موقع دینے کی اپیل کررہی ہے ۔ عوام نے کانگریس کو 11 مرتبہ موقع دیا مگر پارٹی نے ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی کام نہیں کیا ہے ۔ اگر ایسی دھوکہ باز پارٹی پر بھروسہ کیا گیا تو ریاست کا مستقبل خطرہ میں پڑ جائے گا ۔ کانگریس نے تلنگانہ کو آندھرا میں ضم کیا 10 سال سے مرکز میں بی جے پی کی حکمرانی ہے ۔ وزیراعظم مودی نے تلنگانہ سے انصاف نہیں کیا کسی فلاحی اسکیم سے فائدہ نہیں پہونچایا ۔ آندھرا پردیش تقسیم بل میں تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے تھے ان میں ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا گیا ۔ ن