بھوپال : مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے پیپر لیک سے متعلق مرکزی حکومت کے قانون پر آج کہا کہ جہاں پیپر لیک ہوتا ہے ، وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کا نام سامنے آتا ہے اور پارٹی قانون بنا کر ملک کو گمراہ کرنا چاہتی ہے ۔ پٹواری نے اپنے بیان میں کہا کہ پیپر لیک کے خلاف چاہے جتنے بھی قانون بنائیں، جہاں پیپر لیک ہوتا ہے ، وہاں بی جے پی کا کالج سامنے آتا ہے ، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے کارکن، وہاں سے نکالے ہوئے وائس چانسلر اور پروفیسرسامنے آتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن اداروں میں پیپر لیک جیسے واقعات ہوتے ہیں وہاں بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے متاثر ان کے کارکن اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ یہیں سے پیپر لیک ہوتا ہے ۔ اسی سلسلے میں انہوں نے بی جے پی کے حوالے سے کہا کہ اپنے لوگوں کو آپ (بی جے پی) سزا نہیں دے سکتے ہیں، آپ کی نیت میں کھوٹ ہے اور قانون بنا کر ملک کو صرف گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ (مرکزی بھرتی اور مرکزی تعلیمی اداروں میں داخلے کے امتحانات کے لیے اینٹی پیپر لیک قانون) 2024 جمعہ کی رات سے ملک میں نافذ ہو گیا ہے ۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے دیر رات ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ۔ اس قانون کے تحت پرچہ لیک کرنے یا جوابی پرچہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر کم از کم تین سال قید اور 10 لاکھ روپے کا جرمانے لگانے کا التزام ہے ۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں نیٹ امتحانات میں ہوئی بے ضابطگیوں نے پورے ملک میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔