عظیم جمہوریت کو تنگ نظر آمریت میں بدلنے کی سازش کا الزام
نئی دہلی: اگر بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹیں ملیں تو کیا وہ ملک کے آئین کو بدل دے گی؟ کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے اس سلسلے میں بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بھگوا پارٹی پر تنقید کی ہے۔ راہول گاندھی نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا کہ بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان کہ انہیں آئین میں ترمیم کے لیے 400 سیٹوں کی ضرورت ہے۔ یہ نریندر مودی اور ان کے ‘سنگھ پریوار’ کے پوشیدہ عزائم کا مظہر ہے۔کانگریس کے سابق صدر نے لکھا کہ نریندر مودی اور بی جے پی کا آخری مقصد بابا صاحب کے آئین کو تباہ کرنا ہے۔ وہ انصاف، مساوات، شہری حقوق اور جمہوریت سے نفرت کرتے ہیں۔ سماج کو تقسیم کر کے، میڈیا کو غلام بنا کر، اظہار رائے کی آزادی پر پہرہ لگا کر اور آزاد اداروں کو اپاہج بنا کر، اپوزیشن کو ختم کرنے کی سازش کر کے وہ ہندوستان کی عظیم جمہوریت کو ایک تنگ نظر آمریت میں بدلنا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم آزادی کی عظیم شخصیات کے خوابوں کے ساتھ ہو رہی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور آخری سانس تک آئین سے حاصل کردہ جمہوری حقوق کی جنگ جاری رکھیں گے۔ آئین کا ہر سپاہی، خاص طور پر دلت، آدیواسی، پسماندہ اور اقلیت بیدار ہو جائیں، اپنی آواز اٹھائیں، انڈیا (اتحاد) آپ کے ساتھ ہے۔
