بی جے پی ’ سیٹھ جی ‘ کی پارٹی ۔ بیوہ مراٹھی خاتون کی کوئی پرواہ نہیں۔ سنجے راوت کا بیان
ممبئی : شیوسینا نے اُن الزامات کی تردید کی کہ چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کے خاندان و متوفی انوے نائک کے خاندان کے درمیان اراضیات کا کوئی سودا ہوا ہے اور یہ بھی کہاکہ اس نوعیت کے الزامات دراصل انوے نائک کی خودکشی تحقیقات کا رُخ موڑنے کی کوشش ہے جسے کبھی کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ حکمراں جماعت کے کلیدی ترجمان سنجے راوت نے خاص طور پر سابق بی جے پی ایم پی کیرت سومیا کو تنقید کا نشانہ بنایا جنھوں نے د عویٰ کیا تھا کہ ادھو ٹھاکرے و انوے نائک کے درمیان اراضیات کا سودا ہوا ہے جس کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔ راوت نے کہاکہ ہم اِس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مہاراشٹرا میں بی جے پی آئندہ 25 سال تک اقتدار میں نہ آنے پائے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے راوت نے بی جے پی کو ’سیٹھ جی‘ کی پارٹی سے تعبیر کیا اور سومیّا کو بیوپاری قرار دیا اور یہ بھی کہاکہ ’سیٹھ جی‘ کی پارٹی ترجمان ایک مراٹھی خاتون کے بارے میں بات کرنا ہی نہیں چاہتے جو بیوہ ہوگئی (اُن کا اشارہ انوے نائک کی بیوہ کی جانب تھا)۔ سنجے راوت نے کہاکہ انوے نائک کی بیوہ اور بیٹی انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں اور ہماری یہ کوشش تھی کہ اُنھیں انصاف دلایا جائے تو اب یہ لوگ نئے الزامات لگاکر تحقیقات کا رُخ موڑنا چاہتے ہیں تاکہ اس کیس سے توجہ ہٹ جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ 2014 ء میں دونوں خاندانوں میں سودا ضرور ہوا تھا جس کی حیثیت قانونی ہے۔ کیا سومیّا کو اس کیلئے کوئی مسئلہ ہے کہ ایک مراٹھی نے یہ سودا کیا ہے؟ ہمیں اس کی پرواہ نہیں کہ شیوسینا کی قیادت والی ایم وی اے حکومت اپنی میعاد پوری کرتی ہے یا نہیں لیکن ہم یقینی بنائیں گے کہ مہاراشٹرا میں بی جے پی کی حکومت آئندہ 25 سالوں تک تشکیل نہ دی جاسکے۔ ہمارا ایک ہی نصب العین ہے کہ انوے نائک کو انصاف دلایاجائے اور خاطیوں کو سزا دلوائی جائے جنھوں نے نائک کو خودکشی پر مجبور کیا۔ ارنب گو سوامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہاکہ ’سیٹھ جی‘ کی پارٹی خاطی کا تحفظ کرنا چاہتی ہے جس پر دیگر دو افراد کے ساتھ یہ الزام ہے کہ انوے نائک اور اُس کی والدہ کو بقایا جات کی عدم ادائیگی پر اتنا ڈرایا دھمکایا گیا کہ اُن لوگوں نے خودکشی کرلی۔
