بی جے پی کو سیاست میں بھگوان کا نام استعمال کرنے کا حق کس نے دیا

   

Ferty9 Clinic

کویتا کے الزامات کے بعد کے ٹی آر سسٹر اسٹروک اور ہریش راؤ بہنوئی اسٹروک کا شکار : مہیش کمار گوڑ

حیدرآباد ۔ 10 جنوری (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی جے پی کو سیاست میں بھگوان کے نام کا استعمال کرنے کا حق کس نے دیا ہے اور کہا کہ تلنگانہ سے بہت جلد بی آر ایس کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس اور بی جے پی دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بدنام کرنے کیلئے دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے سے خفیہ اتحاد کیا۔ تنقید برائے تعمیر کے بجائے تنقید برائے تنقید کرتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہاکہ کانگریس پارٹی خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ آنے والے بلدی انتخابات میں حصہ لے گی اور کسی بھی جماعتوں سے اتحاد یا تال میل کئے بغیر تنہا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں حکومت کی فلاحی اسکیمات سے عوام مستفید ہورہے ہیں اور حکومت کی کارکردگی سے عوام مطمئن بھی ہیں۔ کانگریس حکومت تعلیم، صحت اور کھیلوں کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے اعتراف کیا کہ گرام پنچایت کے انتخابات میں کانگریس کے چند باغی امیدواروں کی وجہ سے کانگریس کو چند نشستوں پر نقصان ہوا ہے جس کا فائدہ بی آر ایس کو پہنچا۔ انہوں نے خاتون آئی پی ایس عہدیدار کے خلاف میڈیا میں شائع ہونے والی بعض خبروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی رپورٹنگ مناسب نہیں ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کویتا کی جانب سے بی آر ایس دورحکومت کی بدعنوانیوں کو منظرعام پر لانے کے بعد کے ٹی آر سسٹراسٹروک اور ہریش راؤ کو بہنوئی کزن اسٹروک ہوگیا ہے۔10 سالہ دورحکومت میں کرپشن اور پارٹی کے نام کی تبدیلی جیسے سوالات کے جوابات ان کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرپنچ انتخابات میں کانگریس نے 70 فیصد سے زائد نشستیں حاصل کی اور جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں 25 ہزار سے زیادہ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی جو عوامی حکومت کے تحت کانگریس کے ترقیاتی اور فلاحی پروگرامس پر عوام کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں کانگریس پارٹی 90 فیصد زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔2