حیدرآباد۔30 جون(سیاست نیوز) حیدرآباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی عاملہ کا اجلاس ملک میں بی جے پی اور این ڈی اے کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوگا!بی جے پی کے سینئر قائدین ملک کے آئندہ عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار کے حصول کے متعلق متضاد خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حیدرآباد بھارتیہ جنتا پارٹی کو راس نہیں آئیگاکیونکہ سال 2004میں جب اٹل بہاری واجپائی کی زیر قیادت مرکزی حکومت تھی اس وقت بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے شہر میں قومی عاملہ کا اجلاس منعقد کیا تھا اور پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ عام منعقد کیا تھا لیکن 2004 عام انتخابا ت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا اور اب دوبارہ بی جے پی شہر میں قومی عاملہ کا اجلاس منعقد کرنے جارہی ہے اسی لئے پیش قیاسی کی جا رہی ہے کہ شہر حیدرآباد میں قومی اجلاس کے انعقاد کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کا ملک میں اقتدار حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ سابق میں ایسا ہوچکا ہے۔ پارٹی کے سینئر قائدین کا کہناہے کہ یہ محض ایک اتفاق بھی ہوسکتا ہے لیکن ملک کو درپیش حالات بالخصوص معاشی تباہی اور عوام پر مہنگائی کے بوجھ کے سبب مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ شہر میں پارٹی کے قومی اجلاس کے انعقاد اور پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کے بعد پارٹی کا 2004 عام انتخابات میں اقتدار سے محروم ہونے کے متعلق پارٹی قائدین سے موجودہ قائدین کو واقف کروایا ہے لیکن کہا جا رہاہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ کہا ہے کہ جو کرنے سے اقتدارجانے کے متعلق توہم پرستی ہے وہ اس عمل کو کردکھانا چاہتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ نریندر مودی کی ضد کے سبب اس مرتبہ شہر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا قومی اجلاس ہونے جا رہا ہے جبکہ بیشتر قائدین نے 2004 قومی اجلاس کے بعد عام انتخابات میں بی جے پی کی صورتحال کی سمت پارٹی قائدین کو متوجہ کروایا ہے ۔ واضح رہے کہ سال 2004 میں بی جے پی نے ہوٹل میریٹ میں پارٹی کا قومی اجلاس منعقد کیا تھا اور اس میں آنجہانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے علاوہ ایل کے اڈوانی اور دیگر قائدین نے شرکت کی تھی ۔ اجلاس کی صدارت بی جے پی صدر کی حیثیت سے موجودہ نائب صدرجمہوریہ ہند مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ پارٹی نے شہر دمیں قومی عاملہ کے اجلاس کا انعقاد اس لئے کیا ہے کیونکہ وینکیا نائیڈو کا تعلق آندھراپردیش سے ہے لیکن اب جو قومی عاملہ کا اجلاس حیدرآباد میں ہونے جا رہاہے ایسے میں بی جے پی کے نہ صدر کا تعلق تلنگانہ سے ہے اور نہ ہی سب سے زیادہ نشستیں بی جے پی کو تلنگانہ سے حاصل ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود شہر میں قومی عاملہ اجلاس کا منعقد کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق نریندر مودی کو جب اس سے واقف کروایا گیا کہ 2004میں عام انتخابات سے قبل شہر میں قومی عاملہ کے اجلاس کے بعد پارٹی اقتدار سے محروم ہوگئی تھی تو انہوں نے حیدرآباد میں ہی قومی اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے یہ کہا کہ جب وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے اور انہیں توہم پرستی کا شکار بعض افراد چند شہروں کا دورہ نہ کرنے کی تاکید کرتے تھے تب بھی وہ ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا کرتے تھے اور ان شہروں کا دورہ کرتے تھے اسی طرح چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کو بھی ان کی پہلی معیاد کے دوران اترپردیش کے سرحدی علاقہ نوئیڈا کا دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا رہا تھا کیونکہ مشورہ دینے والوں کا ماننا تھا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے نوئیڈاکا دورہ کرنا اقتدار سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ حیدرآباد میں بی جے پی قومی عاملہ کے اجلاس سے پارٹی کے اقتدار کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس کیلئے پارٹی قائدین کی جانب سے حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سنٹر ہائی ٹیکس میں خصوصی پوجا بھی کروائی گئی ہے لیکن اس کے باوجود کئی قائدین شہر میں پارٹی کے قومی اجلاس کے انعقاد سے متفکر ہیں اور ان کا کہناہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی حالت بھی اٹل بہاری واجپائی حکومت کی طرح ہوسکتی ہے کیونکہ 2004انتخابات میں جو شہر حیدرآبا دمیں قومی اجلاس کے بعد منعقد ہوئے تھے ان انتخابات میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ 2014 تک اقتدار سے محروم رہی تھی۔م