ممبئی: بی جے پی کی کسان مخالف سوچ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے ۔اس کی تازہ مثال ریاست کی بی جے پی حکومت ہے جس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسان برباد ہورہے ہیں۔ روئی، سویا بین کی قیمتیں نہیں مل رہی تھیں کہ اب پیاز کی قیمت بھی کم ہوگئی۔صورت حال یہ ہے کہ کھیت سے پیاز نکالنے کی قیمت بھی اب کسانوں کو نہیں مل پارہی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کسان پیاز اپنے کھیتوں میں ہی سڑانے پر مجبور ہورہے ہیں۔ایسی صورت میں کسانوں کو راحت ملنا نہایت ضروری ہے جس کے لیے حکومت کو پیاز کے اوپر سے عائد برآمد کی پابندی کو فوری طور پر ختم کرنا چاہئے ۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے ۔اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں کسانوں کی حالت نہایت قابل رحم ہوچکی ہے ۔ یہ بات اب صاف ہوچکی ہے کہ بی جے پی ومودی حکومت کسانوں کے لیے نہیں بلکہ چند صنعتکاروں کے لیے کام کررہی ہے ۔ یہ حکومت صنتعکاروں کے کروڑوں روپئے کے قرض معاف کررہی ہے لیکن کسانوں کے دینے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ فی الوقت بازار میں پیاز کی قیمت گرچکی ہے ۔ بازاروں میں پیاز کی قیمت چارسے پانچ روپئے مل رہے ہیں۔ اتنے پیسوں میں پیاز پیدا کرنے کی قیمت بھی نہیں نکل پارہی ہے ۔ پیاز کی اتنی کم قیمت دیکھ کر کسان زبردست پریشانی میں مبتلا ہوچکے ہیں لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس سے اس حکومت کے تئیں کسانوں میں زبردست ناراضگی پیدا ہورہی ہے ۔