بی جے پی کی پالیسیوں سے ملک معاشی بحران کا شکار

   

کاروبار جی ایس ٹی اور ٹی ڈی ایس میں الجھ کر رہ گیا: اکھلیش یادو
لکھنؤ: سماجوادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر ملک کو معاشی بحران میں پھنسانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے بینکنگ شعبہ شدید طر پر متاثر ہو گیا ہے اور کاروبار جی ایس ٹی اور ٹی ڈی ایس میں الجھ کر رہ گیا ہے۔اکھلیش یادو نے لکھنؤ کے ہوٹل تاج میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کا ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ محض دعویٰ بن کر رہ گیا ہے جبکہ حقیقت میں ‘ایز آف ڈائنگ بزنس’ دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے فیصلوں سے کاروبار چند گنتی کے افراد کے ہاتھوں میں سمیٹ گیا ہے اور باقی کاروباری پریشانیوں کا شکار ہیں۔ایس پی سربراہ نے کہا کہ حکومت تیسری بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن 80 کروڑ لوگ سرکاری راشن پر جینے کو مجبور ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت ان لوگوں کی فی کس آمدنی بتائے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سماج وادی حکومت نے کاروبار کو آسان بنانے کے لیے مؤثر فیصلے کیے تھے۔ ایس پی حکومت نے عالمی معیار کا آگرہ۔لکھنؤ ایکسپریس وے بنایا، جس کے کنارے منڈیاں بنائی گئیں تاکہ کسانوں کو فائدہ ہو۔اکھلیش نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت نے بندیل کھنڈ ایکسپریس وے میں بدعنوانی کی اور وزیر اعظم کے افتتاح کے فوراً بعد ہی ایکسپریس وے دھنس گیا۔ انہوں نے حکومت کے 40 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمین پر کوئی سرمایہ کاری نظر نہیں آتی۔آخر میں انہوں نے 2027 کے اسمبلی انتخابات میں ایس پی کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا پی ڈی اے (پسماندہ، دلت، اقلیت) پازیٹیو نظریہ ہے جبکہ بی جے پی کا این ڈی اے منفی سیاست کر رہی ہے۔