یوپی میں کامیاب تجربہ کے بعد تلنگانہ میں بھی حکمت عملی، اُمت مسلمہ میں دراڑ کی کوشش
حیدرآباد۔23اپریل(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ میں اپنی کامیابی کے لئے مسلم چہروں کا استعمال کرتے ہوئے سیکولر سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے اور بی جے پی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے ایسے افراد کو عوام کے درمیان اہم شخصیات کے طور پر پیش کر رہی ہے جو کہ بطور ایجنٹ خدمات انجام دیتے ہوئے بی جے پی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور ان کے منصوبوں کی ستائش کرنے والے ہیں۔ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اترپردیش میں اپنے کامیاب تجربہ کے بعد تلنگانہ میں ایسے مسلم نوجوانوں کی نشاندہی کا عمل شروع کیا ہے جو کہ بی جے پی کی پالیسی بالخصوص آر ایس ایس کے نظریات کودرست تصور کرتے ہوئے ان کی ترویج و اشاعت کے لئے آمادہ ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ اس طرح کے نظریات کے حامل نوجوانوں کی نشاندہی کے ذریعہ بی جے پی انہیں فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ’دست غیب ‘ سے مدد بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہندستان بھر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ان کی تکالیف سے بالاتر ملک میں حالات کو معمول پر دکھانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کے درمیان بی جے پی کے متعلق نظریات کو تبدیل کرنے کے لئے ان نوجوانوں کی خدمات حاصل کی جار ہی ہیں اور ان کو یہ باور کروایا جا رہاہے کہ وہ دراصل اپنی قومی ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ان نادان نوجوانوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ انہیں کس مقصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے!ذرائع کے مطابق مذہبی تنظیموں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں اور صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جا رہاہے اور یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ وہ طرز کہن پر اڑنے والوں میں نہیں ہیں بلکہ آئین نو سے بے خوف زندگی گذارنے کا پیام دینے والوں میں شامل ہیں لیکن درحقیقت یہ نوجوان جو آرایس ایس و بی جے پی کے پروپگنڈہ کا شکار ہو رہے ہیں وہ امت مسلمہ میں دراڑ پیدا کرنے کے مرتکب بن رہے ہیں۔کرناٹک اسمبلی انتخابات کے علاوہ تلنگانہ میں مسلم ووٹوں کی تقسیم ہی نہیںبلکہ بی جے پی کے حق میں 3تا5 فیصد مسلم ووٹ ہموار کرنے کی کوشش کے تحت اس منصوبہ پر عمل کیا جا رہاہے اور یہ منصوبہ اتر پردیش میں کامیاب ثابت ہوا تھا۔م