بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کو فرقہ پرستی سے زیادہ دلچسپی

   

کسانوں کے مسائل نظر انداز ، ضلع عادل آباد تلنگانہ کا کشمیر ، شرمیلا کا دعویٰ
حیدرآباد :۔ ریاست میں نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کے لیے مشاورت میں مصروف شرمیلا نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں بھینسہ کے فرقہ وارانہ فسادات میں جتنی دلچسپی ہے اتنی دلچسپی کسانوں سے نہیں ہے ۔ آج لوٹس پاونڈ میں اضلاع نظام آباد ، عادل آباد کے قائدین سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے شرمیلا نے کہا کہ ڈی اروند نے نظام آباد کے کسانوں کو کامیابی پر ہلدی بورڈ قائم کرنے کا تحریری طور پر باونڈ لکھ کر دیا تھا ۔ کسانوں نے ان پر بھروسہ کرتے ہوئے کامیاب بنایا لیکن ڈی اروند کسانوں سے کئے گئے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ۔ شرمیلا نے ضلع عادل آباد کو تلنگانہ کا کشمیر قرار دیا ۔ ہرے بھرے جنگلات ، کنتلا جھرنا ، وغیرہ تلنگانہ کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔ جل زمین جنگل کے نام سے تحریک ضلع عادل آباد سے شروع ہوئی اور یہ ضلع کمرم بھیم کا پیدائشی مقام ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کے لیے وزارت سے استعفی دینے والے کونڈا لکشمن باپوجی کا بھی تعلق ضلع عادل آباد سے ہے ۔ تلنگانہ تحریک کی قیادت کرنے والے پروفیسر کودنڈا رام بھی ضلع عادل آباد میں پیدا ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں اضلاع عادل آباد اور نظام آباد کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے شرمیلا نے کہا کہ باسرا میں ٹریپل آئی ٹی اور نظام آباد میں یونیورسٹی قائم کی گئی ۔ راج شیکھر ریڈی نے نظام شوگر فیکٹری کو چلانے کے لیے اس وقت کی مرکزی حکومت کو بھی راضی کرلیا تھا ۔ ہلدی کی پیداوار میں ضلع نظام آباد سارے ملک میں سرفہرست ہونے کا دعویٰ کیا اور کسانوں کو دھوکہ دینے کا بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند پر الزام عائد کیا ۔۔