ایس سی زمرہ بندی بل کو گورنر کی منظوری
حیدرآباد۔/9 اپریل، ( سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ جشنو دیو ورما نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے اسمبلی میں 42 فیصد بی سی تحفظات سے متعلق بل کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے پاس روانہ کردیا ہے۔ تعلیم اور روزگار میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے اسمبلی میں بل منظور کیا گیا۔ حکومت نے بل کو گورنر کے پاس روانہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے بل کو منظوری دیئے بغیر صدر جمہوریہ کے غور کیلئے روانہ کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے ریاست میں ایس سی زمرہ بندی سے متعلق بل کو منظوری دے دی جسے اسمبلی وکونسل کے بجٹ سیشن میں پاس کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایس سی زمرہ بندی کے حق میں فیصلہ کے بعد تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے زمرہ بندی کے حق میں قانون سازی کی جس کے تحت ذیلی طبقات کو تین زمرہ جات میں تقسیم کرتے ہوئے تحفظات طئے کئے گئے۔ اسمبلی میں 18 مارچ کو تحفظات بل کو منظوری دی گئی جس کے تحت تعلیم اور روزگار کے علاوہ مجالس مقامی میں 42 فیصد تحفظات کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تلنگانہ میں فی الوقت بی سی طبقات کے تحفظات 29 فیصد ہیں جبکہ ایس سی 15 اور ایس ٹی طبقہ کو 6 فیصد تحفظات حاصل ہیں اور تحفظات مجموعی طور پر 50 فیصد ہیں۔ اضافی تحفظات کی صورت میں مجموعی تحفظات 63 فیصد ہوجائیں گے جبکہ سپریم کورٹ نے50 فیصد کی حد مقرر کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر جمہوریہ تحفظات بل پر قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کریں گی۔ تلنگانہ حکومت نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ دستور کے نویں شیڈول میں 42 فیصد تحفظات کو شامل کیا جائے۔1