بی ٹیم الزامات کی وضاحت نہ کرنا مجلس کیلئے مہنگا پڑسکتا ہے

   

مخالف جماعتوں کے مسلسل الزامات کا مجلسی قیادت نے واضح جواب نہیں دیا

حیدرآباد 29 نومبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں بھی انتخابات کا عمل اب مکمل ہونے والا ہے اور کل جمعرات 30 نومبر کو ساری ریاست میں ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ ریاست بھر میں انتخابی مہم پوری شدت کے ساتھ چلائی گئی ۔ ہر جماعت کی جانب سے مہم پر خاص توجہ دیتے ہوئے مخالفین کو نشانہ بنانے اور تنقیدوں کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ ان ہی تنقیدوں اور الزامات میں مجلس اتحاد المسلمین کو کانگریس کی جانب سے نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی کی بی ٹیم اور مدد کرنے والی جماعت قرار دیا گیا ۔ کانگریس کے کئی قائدین کی جانب سے مجلس کو بی آر ایس اور بی جے پی کے ساتھ مل کر کانگریس کو شکست دینے کی کوششوں میں شامل رہنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ کانگریس قائدین راہول گاندھی ‘ پرینکا گاندھی اور صدر پردیش کانگریس اے ریونت ریڈی نے بھی مجلس اور مجلس کے صدر اسد الدین اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کے الزام عائد کئے اور راست طور پر بی جے پی کی مدد کیلئے انتخابات میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا ۔ تلنگانہ میں صرف 9 اور دیگر ریاستوں میں درجنوں حلقوں سے مقابلہ کا حوالہ دیتے ہوئے ان الزامات کو تقویت دینے کی بھی کوشش کی گئی ۔ جہاں تک مجلس کی بات ہے تو مجلسی قائدین اور خاص طور پر صدر مجلس اسد الدین اویسی نے اس الزام کی کوئی وضاحت نہیں کی ۔ انہوں نے صرف جوابی تنقید کرتے ہوئے بالواسطہ باتیں کہیں۔ اسد اویسی نے کہیں بھی یہ وضاحت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ان کی پارٹی بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کیلئے انتخابات نہیں لڑ رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی وجوہات نہیں بتائیں کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں درجنوں نشستوں پر مقابلہ کرنے کے باوجود تلنگانہ میںصرف 9 حلقوں تک خود کو کیوں محدود رکھا گیا ۔ اپنی انتخابی تقاریر میں اسداویسی نے بی جے پی سے زیادہ کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے جواب دینے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کی وضاحت نہیں کی جس کی عوام کو امید تھی ۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی بی ٹیم ہونے سے متعلق الزامات کی وضاحت نہ کرنے کا بھی عوام کی رائے پر اثر ہوا ہے اور یہ مجلس کیلئے انتخابات میں مہنگا بھی پڑسکتا ہے ۔