بیروزگار نوجوانوں کے مسائل پر کے ٹی آر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں: بی وینکٹ

   

کانگریس حکومت میں دو سال کے دوران 70 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں، مزید نوٹیفکیشن جاری کئے جائیں گے
حیدرآباد ۔3 ۔ فروری (سیاست نیوز) کانگریس کے ایم ایل سی بی وینکٹ نے ملازمتوں کی فراہمی میں کانگریس حکومت ناکام ہوجانے کا کے ٹی آر نے جو الزام عائد کیا ہے ، اس کو مسترد کرتے ہوئے مضحکہ خیز قرار دیا۔ بلدی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے بیروزگار نوجوانوں کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کا الزام عائد کیا ہے۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی وینکٹ نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں ملازمتوں کی فراہمی کے وعدہ کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے جس کی بدولت بیروزگار نوجوانوں نے کانگریس پارٹی کو ووٹ دیتے ہوئے اقتدار میں لایا۔ وعدہ کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ابھی تک 70 ہزار سے زائد سرکاری ملازمتیں فراہم کی ہیں جس سے ریاست کے بیروزگار نوجوان مطمئن ہیں مگر سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے بی آر ایس کی جانب سے بیروزگار نوجوانوں کو مختلف طریقوں سے مشتعل کرتے ہوئے حکومت کی نیک نامی کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں کے سی آر اور کے ٹی آر نے کبھی بیروزگار نوجوانوں سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ان کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہائے جارہے ہیں۔ کانگریس کے دور حکومت میں روزگار کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ 70 ہزار ملازمتیں فراہم کرنے کے علاوہ مزید ملازمتوں کی فراہمی کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تیاری جارہی ہے ۔ اس کے لئے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے بھی عمل کا آغاز کردیا ہے۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں صرف ایک لاکھ 60 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ کانگریس کے دو سالہ دور حکومت میں 70 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔ دسویں جماعت کے امتحانات سے گروپ I امتحانات تک تمام امتحانی پرچے افشاء ہوئے۔ اس طرح بی آر ایس حکومت بیروزگار نوجوانوں کے زندگیوں اور مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے۔ ایسی پارٹی کو آج ملازمتوں کیلئے کانگریس حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا زیب نہیں دیتا۔ بی وینکٹ نے کہا کہ ریونت ریڈی کی زیر قیادت عوامی حکومت بیروزگار نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بڑے پیمانہ پر اقدامات کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے عوام سے جو بھی وعدے کئے گئے ہیں، اس کو ایک ایک کر کے پورے کئے جارہے ہیں۔ گرام پنچایت انتخابات میں شرمناک شکست کے بعد بی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ کم سے کم بلدی انتخابات میں اپنی ضمانت بچانے کیلئے کانگریس حکومت کو بدنام کر رہی ہے اور نوجوانوں کو مشتعل کر رہی ہے جس کی بی آر ایس کو قیمت چکانی پڑے گی۔2