حکومت کو ملک میں کورونا وباء کے ساتھ بیروزگاری میں اضافہ کا بھی سامنا
حیدرآباد۔ ہندستان کو کورونا وائرس کے سبب صرف وباء کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا نہیں بلکہ بے روزگاری کی شرح میں بھی زبردست اضافہ کا خطرہ ہے اور ان خطرات کے سلسلہ میں مسلسل متنبہ کیا جاتا رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے کی جانے والی منصوبہ بندی میں ان امور کو نظر انداز کیا گیا جو کہ معاشی صورتحال کو ابتر کرنے کے علاوہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔بیرون ملک خدمات انجام دینے والے ہندوستانیوں کی ملازمتوں کو اب خطرات لاحق ہونے لگے ہیں اور انہیں اپنی ملازمت ترک کرتے ہوئے ملک واپس ہونے کیلئے مجبور کیا جانے لگا ہے جو کہ ہندوستان میں بے روزگاری میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ کویت میں خدمات انجام دینے والے 8لاکھ ہندوستانیوں کی ملازمتوں کو خطرات کا سامنا ہے اور ان حالات میں انہیں ملک واپسی پر کوئی سرکاری مدد کی توقع نہیں ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے اندرون ملک خدمات انجام دینے والے مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے تو ایسی صورت میں حکومت کی جانب سے دنیا کے دیگر ممالک میں روزگار سے محروم ہوتے ہوئے ملک واپس ہونے والوں کو روزگار کی فراہمی بہت بڑا چیالنج ثابت ہوگا۔ کویت سے جن 8لاکھ ہندوستانیوں کے انخلاء کا خطرہ ہے ان میں زائد از تین لاکھ کا تعلق تلنگانہ و آندھرا پردیش سے ہے ۔ بیرون ملک رہتے ہوئے اپنے افراد خاندان کی پرورش اور حکومت کو بیرونی زر مبادلہ کے ذریعہ آمدنی کی فراہمی کرنے والے یہ غیر مقیم ہندوستانی اب کئی مشکلات کا شکار ہونے لگے ہیں اور ان کے اس مشکل وقت میں حکومت کی جانب سے ان کیلئے کوئی منصوبہ تیار نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کے کسی گوشہ کی جانب سے روزگار سے محروم ہوتے ہوئے ملک واپس ہونے والوں کیلئے کوئی منصوبہ سازی کی اطلاعات ہیں جو کہ ان غیر مقیم ہندوستانیوں کیلئے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہیں ۔ غیر مقیم ہندوستانیوں کا احسا س ہے کہ وہ عرصہ دراز تک غریب الوطنی کے باوجود اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کرتے آئے ہیں اور اب وہ مشکل میں ہیں تو ایسی صورت میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حکومت ان کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کو یقینی بنانے کے علاوہ انہیں روزگار کی فراہمی کی حکمت عملی تیار کرے۔ تلگو ریاستوں سے تعلق رکھنے والے صرف کویت سے 3لاکھ افراد واپس ہونے والے ہیں جبکہ اب تک خصوصی طیاروں سے ملک واپس ہونے والوں میں بھی اکثریت بیرون ملک روزگار سے محروم ہونے کے بعد ہی ملک واپس ہوئی ہے اور ان کے مستقبل کے متعلق بھی اب تک کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا گیا ہے۔