بیشتر پولیس اسٹیشن ’’سیٹلمنٹ اڈوں‘‘ میں تبدیل: جسٹس ونود کمار

   

ہائیکورٹ کی برہمی ، سیول معاملات میں مداخلت کا حق نہیں، نئی ہدایات جاری کرنے کا مشورہ

حیدرآباد ۔ 2 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس کیا کہ کئی پولیس اسٹیشنس ’’سیٹلمنٹ اڈوں‘‘ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ جسٹس ٹی ونود کمار نے ایک شہری کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران یہ سخت ریمارکس کئے ۔ عدالت نے کہا کہ ریاست میں پولیس کی جانب سے سیول معاملات میں مداخلت کے رجحان میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے اور پولیس عہدیدار مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ہوئے سیول معاملات کی یکسوئی کر رہے ہیں۔ پی سدرشنم نامی شخص نے ناگول پولیس کی جانب سے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سے ملی بھگت کے ذریعہ بنڈلہ گوڑہ کے کروشی نگر میں اراضی تنازعہ کی یکسوئی کی شکایت کی۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں 55 لاکھ روپئے ادا کرنے کیلئے دباؤ بنایا تاکہ سیول معاملہ کی یکسوئی کی جائے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران جسٹس ونود کمار نے پولیس کمشنر راچہ کنڈہ جی سدھیر بابو اور اسٹیشن ہاؤز آفیسر ناگول پولیس اسٹیشن کی سرزنش کی ۔ کمشنر راچہ کنڈہ ورچول کارروائی میں شریک تھے جبکہ اسٹیشن ہاؤز آفیسر شخصی طور پر عدالت میں حاضر ہوئے۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے درخواست گزار کو 19 جون کی صبح 10 بجے تا رات 9.30 بجے تک پولیس اسٹیشن میں محروس رکھنے پر برہمی ظاہر کی ۔ جسٹس ونود کمار نے پولیس کو ہدایت دی کہ مذکورہ تاریخ کا پولیس اسٹیشن کا سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ درخواست گزار کے دعوے کی تصدیق کی جاسکے۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے عدالت کے حکم التواء کو نظر انداز کرنے پر برہمی ظاہر کی۔ تین سیول کیسس کے زیر التواء اور عدالت کے حکم التواء کے باوجود مخالف پارٹی نے پولیس کی مدد سے درخواست گزار کی جائیداد کو نقصان پہنچایا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے الٹا درخواست گزار کیخلاف فرضی دستاویزات پیش کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے عدلیہ کے احکامات کی من مانی تشریح کرنے پر سخت اعتراض جتایا۔ عدالت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے سیول تنازعات کو کریمنل کیسیس میں تبدیل کر رہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کو عدالت کے احکامات کی نئی تشریح کرنے یا پھر اراضی کے قبضہ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جبکہ یہ معاملہ سیول کورٹ میں زیر التواء ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس ونود کمار نے کہا کہ طویل عرصہ تک جائز دستاویزات کے بغیر قبضہ کی صورتحال میں مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوسکتے۔ جسٹس ونود کمار نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ پولیس عہدیداروں کو سیول معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے نئے رہنمایانہ خطوط جاری کریں۔ رہنمایانہ خطوط کو سرکاری ویب سائیٹ پر عوام کیلئے دستیاب رکھا جائے۔ پولیس اسٹیشنوں میں رہنمایانہ خطوط واضح طور پر ڈسپلے کئے جائیں تاکہ عام شہری پولیس کے حقوق کے بارے میں واقف ہوسکے۔1