بینکنگ شعبہ سے تلگو شناخت ختم‘ آندھرا بینک کایونین بینک میں انضمام

,

   

Ferty9 Clinic

اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کے بعد دوسرا جھٹکہ، مرکزی حکومت کے فیصلہ سے عوام مایوس
حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے عوامی شعبہ کے بینکوں کے انضمام کے نتیجہ میں ملک کے بینکنگ شعبہ سے تلگو شناخت ختم ہوجائے گی۔ اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کی طرح اب آندھرا بینک کے مجوزہ انضمام کے بعد بینکنگ کے قومی منظر سے تلگو نام ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گا۔ مرکزی وزارت فینانس نے ملک میں موجود 27 عوامی شعبہ کے بینکوں کو گھٹا کر12 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مختلف بینکوں کو بڑے بینکوں میں ضم کردیا جائے گا۔ اپریل 2017ء میں اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ضم کردیا گیا جس سے حیدرآباد کی شناخت ختم ہوگئی کیونکہ اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد ریاست کا سب سے قدیم بینک تھا۔ اسی طرح اب آندھرا بینک کو یونین بینک آف انڈیا اور کارپوریشن بینک میں ضم کرنے کی تجویز ہے جس سے بینکنگ شعبہ میں تلگو شناخت ختم ہوجائے گی حالانکہ یہ بینک جدوجہد آزادی کے دوران قائم کیا گیا تھا۔ آندھرا بینک ملک میں موبائیل بائیو میٹرک اے ٹی ایمس کے آغاز کا اعزاز رکھتا ہے جس کے ذریعہ ناخواندہ اور غیر تعلیمیافتہ صارفین کو سہولت حاصل ہوتی ہے۔ ان اے ٹی ایمس میں صافین کو اپنے شخصی تفصیلات داخل کرنے کے بجائے فنگر پرنٹ کے ذریعہ رقم حاصل کرنے کی سہولت حاصل ہے۔ مجاہد آزادی ڈاکٹر بی پٹابھی سیتا رامیا نے مچھلی پٹنم میں آندھرا بینک کی بنیاد رکھی تھی۔

20 نومبر 1923 کو اسے رجسٹرڈ کیا گیا اور 28 نومبر 1923 سے ایک لاکھ روپئے کے کیاپیٹل سے بینک نے کارکردگی کا آغاز کیا۔1956 میں ریاست کی لسانی بنیادوں پر تقسیم کے بعد حیدرآباد کو متحدہ آندھرا پردیش کے صدر مقام کا درجہ حاصل ہوا جس کے بعد بینک کا رجسٹرڈ آفس آندھرا بینک بلڈنگ کوٹھی سلطان بازار میں منتقل کیا گیا جو آج بھی فن تعمیر کے اعتبار سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔اپریل 1980 میں بینک کو سرکاری بینک کا درجہ حاصل ہوا۔ آندھرا بینک کی فی الوقت 2885 برانچس، 4 ایکسٹنشن کاونٹرس، 38 سیٹلائیٹ آفیسیس اور 3798 اے ٹی ایمس موجود ہیں۔ غیر مقیم ہندوستانیوں میں تلگو این آر آئیز کی کثیر تعداد آج بھی آندھرا بینک کے ذریعہ مالیاتی اُمور کی تکمیل کو ترجیح دیتی ہے۔ تلگو شناخت کے خاتمہ کا آغاز اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کے انضمام سے ہوا۔ اپریل 2017 میں ایس بی ایچ کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ضم کردیا گیا۔ حیدرآباد اورپھر تلگو شناخت کے خاتمہ سے تلگو ریاستوں کے بینک صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی دوران مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن نے اعلان کیا کہ یونائٹیڈ بینک آف انڈیا اور اورینٹل بینک آف کامرس کو پنجاب نیشنل بینک میں ضم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سنڈیکیٹ بینک کو کنارا بینک اور الہ آباد بینک کو انڈین بینک میں ضم کیا جائے گا۔ آندھرا بینک اور کارپوریشن بینک کو یونین بینک آف انڈیا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔