بینکوں کی نجکاری میں مزید بینکوں کو شامل کرنے پر غور

   

مرکزی حکومت نے ماہرین پر مشتمل ایک پیانل تشکیل دیا ہے، بینکوں کی آمدنی اور نقصانات کا جائزہ

حیدرآباد۔/24 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت پبلک سیکٹر بینکوں کی (نجکاری ) خانگی شعبوں کے حوالے کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اس سلسلہ میں وزارت فینانس نے نیتی آیوگ، آر بی آئی کے ماہرین پر مشتمل ایک پیانل تشکیل دیتے ہوئے اس کا جائزہ لیتے ہوئے ایک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ پہلے سے جو فہرست تیار کی گئی تھی اس میں مزید بینکوں کو شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف سرکاری بینکوں کے منافع میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف خراب قرضوں میں کمی ہورہی ہے۔ تاہم بینکوں کی نجکاری کی فہرست تیار کرنے سے پہلے مرکز چند اہم نکات پر سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔ اس میں بینکوں کی خوبیوں اور کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ان کی برسوں کی کارکردگی پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ پبلک سیکٹر بینکوں کی کارکردگی گذشتہ کئی سہ ماہیوں سے بہتر ہورہی ہے۔ منافع بڑھ رہا ہے، خراب قرضے گھٹ رہے ہیں، جون کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں 12 پبلک سیکٹر بینکوں نے 34,418 کروڑ روپئے کا خالص منافع کمایا ہے جو گذشتہ سال ان کی آمدنی 15,307 کروڑ روپئے تھی۔ اس کے علاوہ PSUS کا اثاثہ معیار بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، سرکاری بینکوں کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے۔ حکومت ان بینکوں کی نجکاری کیلئے یہ اچھا وقت ہونے کا دعویٰ کررہی ہے۔ ہندوستان میں فی الوقت ایس بی آئی، پنجاب نیشنل بینک، بینک آف بڑودہ، کینرا بینک، پنجاب اینڈ سندھ بینک، انڈین بینک، یونین بینک آف انڈیا، بینک آف انڈیا، بینک آف مہاراشٹرا، سنٹرل بینک آف انڈیا، انڈین اوورسیز بینک، یوکو بینک حکومت ہند کے کنٹرول میں ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ سنٹرل بینک، انڈین اوورسیز بینک اور یوکو بینک کو پہلے نجکاری بینکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اب اس کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ن