بے حس قائدین کو اقتدار سونپناعوام کی سنگین غلطی

,

   

دہلی تشدد کی شکل میں لوگ قیمت چکارہے ہیں ، حکومت کیلئے سی اے اے کو فوری ترک کرنا ضروری :چدمبرم
نئی دہلی ۔ 25 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں تشدد کی مذمت کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے آج کہاکہ عوام بے حس اور کوتاہ نظر قائدین کو اقتدار پر لانے کی قیمت چکارہے ہیں ۔ اُنھوں نے کہاکہ قانون شہریت میں ترمیم کو فوری اثر کے ساتھ منسوخ کرنا چاہئے اور حکومت کو چاہئے کہ مخالف سی اے اے احتجاجیوں کی آواز سنیں ۔ سی اے اے کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے تک اس معاملے کو معروضِ التواء رکھا جاسکتا ہے ۔ پیر کو شمال مشرقی دہلی میں ایک ہیڈکانسٹیبل کے بشمول سات افراد ہلاک ہوگئے اور کم از کم 50 دیگر زخمی ہوئے جن میں کئی پیراملٹری اور دہلی پولیس کے پرسونل شامل ہیں۔ یہ تشدد ترمیم شدہ شہریت قانون پر موافق اور مخالف آوازوں کے درمیان تصادم کا نتیجہ بتایا جارہا ہے ۔ مشتعل احتجاجیوں نے مکانات ، دوکانات ، گاڑیوں اور ایک پٹرول پمپ کو نذر آتش کیا اور سنگباری بھی کی ۔ چدمبرم نے کہا کہ دہلی میں گزشتہ روز کا تشدد جانی اور مالی نقصان کا موجب بنا ہے جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرنا ضروری ہے اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی بھی ناگزیر ہے ۔ انھوں نے کہاکہ عوام کو اب سمجھ آرہا ہے کہ اُنھوں نے اقتدار کیسے قائدین کے ہاتھوں میں دیدیا جو حساسیت سے عاری ہیں اور کوتاہ نظر ہیں ۔ ہندوستان شہریت قانون 1955 ء کے ساتھ کسی ترمیم کے بغیر اتنے دہے کوئی پریشانی کے بغیر آگے بڑھتا رہا ۔ اب اس قانون میں ترمیم کی ایسی کیا اشد ضرورت آن پڑی ہے ۔ یہ ترمیم (سی اے اے ) کو فوری ترک کردینا چاہئے ۔ چدمبرم نے ٹوئٹر پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اب بھی کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو یہ تاخیر والا اقدام ہی کہا جائے گا لیکن ہنوز تاخیر کی تو بہت پچھتانا پڑے گا ۔ حکومت کو اینٹی سی اے اے احتجاجیوں کی آواز سننی چاہئے اور اعلان کرنا چاہئے کہ سی اے اے کو اس کے دستوری جواز کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے تک معروضہ التواء رکھا جائے گا ۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ اُن کی پارٹی پہلے ہی متنبہ کرچکی ہے کہ سی اے اے نہایت انتشارپسند قانون سازی ہے اور اسے منسوخ یا ترک کردیناچاہئے ۔ ہماری وارننگ پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا ۔ کانگریس نے سی اے اے کے بارے میں پارلیمنٹ میں مخالفت کی اور بجٹ سیشن کے بعد جب کیرالا نے اپنی اسمبلی میں سی اے اے کے خلاف قرارداد منظور کی تو کانگریس زیراقتدار ریاستوں کو بھی حوصلہ ملا ۔ چنانچہ پنجاب ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، پوڈوچیری نے بھی کیرالا کی طرح سی اے اے کی مخالفت میں اپنی اپنی اسمبلی میں قرارداد منظور کی ہے ۔ جہاں تک این پی آر کا معاملہ ہے کیرالا نے مرکز کو سرکاری مراسلت کے ذریعہ واقف کرادیا ہے کہ وہ این پی آر کے عمل میں ریاستی عملے کے ذریعہ مرکز سے تعاون کرنے سے قاصر ہے ۔ چدمبرم نے آج کے ٹوئٹ میں دہلی میں جاری تشدد اور سی اے اے کا احاطہ کیا لیکن اُن کے ٹوئٹ میں این پی آر کا ذکر نہیں ہے جو یکم اپریل سے شروع کیا جانے والا ہے ۔

پولیس ۔ ایم ایل اے رابطہ بڑھانے امیت شاہ کا عزم
دریں اثناء مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے منگل کو اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں عزم کیا کہ دہلی میں پولیس ۔ ایم ایل اے رابطہ کو بڑھایا جائے گا تاکہ افواہوں کو ناکام کیا جاسکے جو شہر میں تشدد بڑھنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ ذرائع نے کہاکہ میٹنگ میں یہ تاثر پایا گیا کہ اگر افواہوں کا بازار گرم نہ ہو تو تشدد پھیل نہیں پائے گا ۔ حکام کیلئے اسے روکنا زیادہ آسان رہے گا ۔ اس میٹنگ میں لیفٹننٹ گورنر دہلی انیل بائیجل ، چیف منسٹر اروند کجریوال ، کمشنر پولیس امولیا پٹنائک و دیگر شریک ہوئے ۔یہ عزم بھی کیا گیا کہ سیاسی پارٹیوں کے ورکرس شہر میں امن کی بحالی کیلئے مل جل کر کام کریں گے ۔