صرف دکھاوے کے اقدامات ۔ عہدیداروں کی لاپرواہی ۔معاملہ فہمی کے بعد خاموشی
حیدرآباد۔20 ستمبر(سیاست نیوز) تالابوں کے تحفظ اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے حکومت سے متعدد دعوے کئے جاتے ہیں لیکن اگر عملی اعتبار سے ان کا جائزہ لیا جائے تو تاریخی عمارتو ںاور تالابوں کو غیر مجاز تعمیرات کے ذریعہ نقصان پہنچانے میں حیدرآباد ملک کے کئی شہروں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ دونوں شہروں بالخصوص پرانے شہر میں تاریخی عمارتوں کے قوانین کی خلاف ورزی والی تعمیرات کے سلسلہ میں عہدیدارو ںکا کہناہے کہ وہ کارروائی نہیں کرسکتے جبکہ تاریخی عمارتوں کی خوبصورتی متاثر کرنے والی ان عمارتوں کے انہدام کیلئے کارروائی پہلے کی جانی چاہئے ۔ تاریخی چارمینار کے اطراف جہاں تعمیرات ممنوع ہیں ان میں سیاسی سرپرستی کے حامل بلڈرس تعمیرات انجام دے رہے ہیں ۔ حالیہ عرصہ میں محکمہ آثار قدیمہ کے حکام نے امسار ایکٹ کی خلاف ورزی والی عمارت کو تعمیر مکمل ہونے کے بعد نوٹس جاری کرکے یہ تاثر دیا کہ وہ ممنوعہ حدود میں غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جبکہ جس عمارت کو نوٹس جاری کی گئی اس کے اطراف اب بھی تعمیرات جاری ہیں لیکن انہیں روکنے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں ۔ اسی طرح چومحلہ پیالس کے اطراف بھی تعمیرات پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ہنگامہ آرائی کرکے تعمیرات روکنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن بعد ازاں ان پر مکمل خاموشی اختیار کرلی گئی جو ثبوت ہے کہ عہدیداروں کی ہنگامہ آرائی محض معاملہ فہمی کی حد تک ہوتی ہے ۔ جہاں تک تالابوں کے تحفظ کا معاملہ ہے محکمہ بلدی نظم و نسق کے علاوہ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے تالابوں اور شکم کے تحفظ کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن میر عالم تالاب کے علاوہ موسیٰ ندی کے کنارے ناجائز قبضوں اور تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے اور ان کو روکنے کاروائیوں میں کوئی پیشرفت نہیں کی جاتی بلکہ ان میں موجود شہریو ںکی شکایات کے بعد یہ کہا جانے لگا ہے کہ کسی بھی قبضہ اور ناجائز تعمیر پر سیاسی قائدین کی تصاویر آویزاں کرنے پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی بلکہ سیاسی قائدین کی تصاویر کے ساتھ والے بیانر ان کیلئے اجازت نامہ کے مترادف ہیں ۔ اسی لئے عہدیدار ان کے خلاف کاروائی نہیں کرتے بلکہ شکایت کنندہ کی تفصیلات ان لوگوں کے حوالہ کردی جاتی ہیں جو ان کاموں میں ملوث ہیں۔ شہر میں تالابوں کے تحفظ اور تاریخی عمارتوں کے ممنوعہ حدود میں تعمیرات کی مخالف تنظیم کے ذمہ داروں نے عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا اور کہا جار ہاہے کہ جلد ہی درخواست مفاد عامہ داخل کی جائے گی۔