جی ایچ ایم سی نے کمیٹی کی تشکیل سے مسلسل گریز ۔ سیاسی مداخلت کے سبب موقف میں نرمی
حیدرآباد۔ شہر کو سیلاب سے محفوظ بنانے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی کمیٹی پر اب تک قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے جبکہ حکومت اور محکمہ بلدی نظم و نسق نے سیلاب کی صورتحال کے بعد اعلان کیا تھا کہ شہر میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے اقدامات کئے جائیں گے اور کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے نالوں اور تالابوں میں قبضہ جات کو برخواست کرنے کو یقینی بنایا جائے گا ۔ لیکن حکومت کے اعلان پر کوئی عمل آوری نہیں ہوپائی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ سیاسی مداخلت اور دباؤ کے سبب محکمہ بلدی نظم و نسق سے کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی اور ایک روایتی رپورٹ کی تیاری کے ساتھ اس مسئلہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے تاکہ قبضہ جات کی برخواستگی کی ضرورت محسوس نہ ہو اور جن قابضین نے تالابوں اور نالوں پر زمینات فروخت کی ہیں ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہو پائے۔ سیلاب کے دوران حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سیلاب کے راحت کاری کاموں کے اختتام کے ساتھ ہی تالابوں اور نالوں پر قبضوں کی برخواستگی کیلئے اقدامات ہونگے تاکہ شہر کو دوبارہ ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن راحت کاری کاموںاور جی ایچ ایم سی انتخابات کے بعد حکومت کی مکمل خاموشی سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ شہر میں تالابوں پر قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر کے اطراف تالابوں اور شہر کے حدود میں موجود تالابوں پر قبضہ جات کی تفصیلات محکمہ بلدی نظم ونسق میں موجود ہیں لیکن ان پر کاروائی میں سیاسی رکاوٹ پیدا ہونے لگی ہے اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کمیٹی کی تشکیل کے منصوبہ کو ملتوی کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلدیہ حیدرآباد کے حدود میں موجود قدیم نالوں اور تالابوں کے مکمل ریکارڈ جی ایچ ایم سی کے علاوہ دیگر متعلقہ شعبہ جات کے پاس موجود ہیں اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود تالابوں کا ریکارڈ بھی محفوظ ہونے کے باوجود ان پر قبضوں کے معاملہ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جو کہ شہر کے لئے مستقبل میں مزید تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔