تالابوں پر وینچرس کیخلاف کارروائی میں تیزی،بنڈلہ گو ڑہ میں غیر مجاز تعمیرات کا انہدام

   

حیدرآباد۔ شہر میں تالابوں میں تعمیر کئے جانے والے وینچرس کو منہدم کرنے کی کاروائی تیز کردی گئی ہے ۔ محکمہ عمارات و شوارع کے علاوہ ریاستی محکمہ مال کے عہدیداروں نے آج پلے چیروو بندلہ گوڑہ کے قریب وسیع پولیس بندوبست کے ساتھ بڑے پیمانے پر انہدامی کاروائی انجام دی گئی اور بڑے پیمانے پر کی جانے والی اس کاروائی سے میڈیا کو دور رکھنے کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تالابوں پر کئے جانے والے قبضوں کو برخواست کروانے کیلئے جاری کئے جانے والے احکامات کے بعد گذشتہ یوم گگن پہاڑ میں محکمہ عمارات و شوارع کے علاوہ محکمہ مال کی جانب سے کاروائی کی گئی تھی اور آج بندلہ گوڑہ کے عقبی علاقوں میں تالابوں پر قبضہ کرتے ہوئے کی گئی تعمیرات کو منہدم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کاروائی کی گئی ۔ محکمہ مال کے عہدیداروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے احکاما ت موصول ہونے کے بعد محکمہ عمارات و شوارع اور آبپاشی کے تعاون کے ساتھ یہ کاروائی کی جا رہی ہے اور اس کاروائی کے دوران تالابوں میں موجود تمام تعمیرات کو مکمل طور پر منہدم کرتے ہوئے ملبہ کی نکاسی بھی انجام دی جانے لگی ہے۔ محکمہ پولیس کے مطابق علی نگر میں بھی آج انہدامی کاروائی انجام دی گئی ہے ۔ بندلہ گوڑہ کے عقبی علاقہ جہاں پلے چیروو سے متصل جاری وینچرس کو مندہم کرنے کے اقدامات کئے گئے علاوہ ازیں بعض ہمہ منزلہ عمارتوں اور تعلیمی اداروں کو بھی منہدم کردیا گیا اور اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کی سیاسی مداخلت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے محکمہ جاتی عہدیداروں نے بھاری پولیس کی تعیناتی کے ذریعہ یہ کاروائی انجام دی ۔محکمہ مال کے ذرائع کے مطابق اس علاقہ میں تالابوں میں تعمیری ملبہ جمع کرتے ہوئے کئے جانے والے تمام قبضہ جات کو برخواست کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تالابوں کو مکمل طور پر بازیاب کیا جاسکے ۔ محکمہ عمارات و شوارع کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس علاقہ میں آئندہ ایک ہفتہ تک انہدامی کاروائی جاری رہنے کے امکانات ہیں کیونکہ ان علاقو ںمیں گنجان آبادیوں کے سبب انہدامی کاروائی میں ہونے والی دشواریوں کی وجہ سے تاخیر ہونے کا خدشہ ہے۔بتایاجاتا ہے کہ جن علاقو ںمیں انہدامی کاروائی کی جارہی ہے ان علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے اور ان علاقوں تک پہنچنے والے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے آمد و رفت کو مکمل طور پر روکنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔