ہندوستان کو حسن میواتی، خدا بخش ، حکیم خان سوری اور اشفاق اللہ خان جیسے مسلمانوں پر فخر ہے
ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ہندوستان کی آبادی میں اضافے کی شرح میں مذہبی عدم توازن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی وحدت اور سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قومی آبادی رجسٹر تبدیلی مذہب اور دراندازی کو روکنے کے لئے ضروری ہے ۔جمعہ کو یہاں وجے دشمی کے موقع پر سنگھ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ آبادی کنٹرول ضروری ہے اور اس کے لیے آبادی کی پالیسی بنانی چاہیے جو سب پر یکساں طور پر لاگو ہو۔انہوں نے بتایا کہ ملک کی مجموعی آبادی بالخصوص سرحدی علاقوں میں آبادی کے تناسب میں بڑھتا ہوا عدم توازن ، مختلف فرقوں کی آبادی میں اضافے کی شرح میں وسیع تغیر کی وجہ سے غیر ملکی دراندازی اور تبدیلی مذہب کیلئے سنگین بحران کا باعث بن سکتے ہیں ۔بھاگوت نے بتایاکہ “1951 اور 2011 کے درمیان آبادی میں اضافے کی شرح میں مذہبی فرق ہے جبکہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے فرقوں کے پیروکاروں کا تناسب ملک کی آبادی میں کم ہوا ہے اور مسلم آبادی کا تناسب بڑھ گیا ہے ۔انہوں نے بتایاکہ “باہر سے آئے تمام فرقوں کی پیروی کرنے والوں سمیت ہر ایک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے روحانی عقیدے اور عبادت کے طریقہ کار کی انفرادیت کے علاوہ ہم سب ایک ہی ہندو اجداد کی اولاد ہیں جو ایک سناتن قوم میں پلے بڑھے ہیں ، ایک معاشرہ ، ایک ثقافت ۔ہماری ثقافت کسی کو اجنبی نہیں سمجھتی۔ ہندوستانیت قربت اور معاشرے کے درمیان توازن ہے ۔بھاگوت نے کہا کہ ہندوستانی ہونے پر یقین رکھنے والے مختلف مذاہب کے لوگ ہمارے آباو اجداد کے نظریات کو سمجھتے ہیں۔ کسی کو کسی زبان ، عبادت کے نظام کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں ، بنیاد پرست سوچ کو چھوڑنا ضروری ہے ۔ مسلمان ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ، قوم پرست سوچ ضروری ہے ، ہندو سماج ہر کسی کو اپنا لیتا ہے ۔ بہت سے مسلمان قابل نمونہ ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس ملک نے کبھی حسن خان میواتی ، حکیم خان سوری، خدابخش ، غوث خان اور اشفاق اللہ خان جیسے ہیرو دیکھے ۔ وہ سب کے لیے مثالی ہیں۔ سنگھ سربراہ بھاگوت نے کہا کہ آج بھی ملک کو تقسیم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ایسے لوگوں نے اتحاد بھی کیا ہے ۔ ہندو سماج کو تقسیم کرنے کے لیے بہت سی کوششیں جاری ہیں۔ اسی لیے ہندوستان اور اس سے متعلقہ چیزوں کی مذمت کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اتنے قدیم عرصے سے دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسے کس طرح تباہی اور خرابی سے بچایا گیا ہے ۔ یہ حملے ہندوستان میں اس خوف کی وجہ سے جاری ہیں کہ اگر ہم مضبوط ہیں تو وہ آگے نہیں بڑھ سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد لوگوں کا خوف ختم ہو گیا ہے اس لیے دوبارہ خوف پیدا کرنے کے لیے ملک دشمن قوتیں وہاں ‘ٹارگٹ کلنگ’ کر رہی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ “مسلک ، صوبہ اور زبان کے فرق کی وجہ سے معاشرے میں تقسیم تھی اور آزادی کے بعد تقسیم کا دکھ بہت بڑا ہے ۔ لہٰذا اتحاد اور سالمیت کی پہلی شرط امتیاز کے بغیر ایک معاشرہ ہے ، ہمیں تقسیم کے درد کو نہیں بھولنا چاہیے ۔ ہم آہنگی کے لیے تمام معاشروں اور فرقوں کے لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تیوہار ایک ساتھ منائیں۔ تمام برادریوں کے لوگوں نے رام مندر کی تعمیر میں فنڈ جمع کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔مسٹر بھاگوت نے کہاکہ “اگر ہندوتو اٹھے گا تو پھر ان لوگوں کی دکان بند ہوجائے گی جو اختلاف کا کاروبار کرتے ہیں۔ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی ملک کی دو ریاستوں کی پولیس ایک دوسرے پر فائرنگ کرتی ہے ۔ ایسی سیاست افسوسناک ہے ۔ اقتدار میں رہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نے ملک چلانے کے لیے وفاقی ڈھانچہ بنایا ہے ، ہم ایک مکمل قوم ہیں۔ ہمیں اس طرح کے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ۔