زرعی سرگرمیوں کے لیے ڈرون کے استعمال کو منظوری
حیدرآباد۔11فروری(سیاست نیوز) تجارتی مفادات کے حسین اتفاق سب کے ساتھ نہیں ہوتے لیکن جن لوگوں کے ساتھ یہ اتفاق ہوتے ہیں ان کے ساتھ مسلسل ایسے اتفاق انہیں کافی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ مرکزی وزیر فینانس نے راجیہ سبھا میں بجٹ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ 11 فروری کو یہ اعلان کیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک میں ڈرون کے استعمال بالخصوص زرعی مقاصدکے لئے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جائے گا ۔ وزیر فینانس کی جانب سے ڈرون شکتی پراجکٹ کے تحت کئے جانے والے اس اعلان کے مطابق زرعی سرگرمیو ںمیں ڈرون کے استعمال کو دوگنا کیا جائے گا اور مختلف خدمات کے لئے ڈرون کے استعمال کو منظوری دی جائے گی علاوہ ازیں مرکزی حکومت کی جانب سے ڈرون شکتی پراجکٹ کے ذریعہ 2030 تک ہندستان کو ڈرون کی تیاری کے مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبہ پر کام کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر کے اعلان سے دو یوم قبل حکومت ہند نے بیرونی ساختہ ڈرون کی ہندستانی بازار میں فروخت پر امتناع عائد کرنے کا اعلان کیا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک میں تیار کئے جانے والے ڈرون کی درآمدات پر مکمل امتناع عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس سلسلہ میں اعلامیہ جاری کردیا ہے ۔ وزیر فینانس نرملا سیتارمن کے راجیہ سبھا میں بیان اور اعلان سے دو یوم قبل بیرونی ساختہ ڈرون کی درآمدات پر امتناع کی خبر اور دوسرے دن یعنی 10 فروری کو ہندستان کی سرکردہ کمپنی ریلائنس کی جانب سے ڈرون کی تیاری کے مراکز قائم کرنے کا اعلان اور اس کے اگلے ہی دن وزیر کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں اضافہ کے فیصلہ کو حسین اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے ۔ 9 فروری کو ہندستان نے بیرونی ساختہ ڈرون کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا اور دوسرے دن10 فروری کو ریلائنس کی جانب سے ہندستان میں دیسی ساختہ ڈرون کی تیاری کے مراکز کے قیام کے منصوبہ کو پیش کیا اور اس کے اگلے ہی دن 11 فروری کو نرملا سیتارمن نے ملک میں ڈرون کے استعمال کو فروغ دینے کے منصوبہ اور اس کے لئے ہزاروں کروڑ روپئے صرف کرنے کے منصوبہ سے پارلیمنٹ کو واقف کروایا ۔ اس طرح کے حسین اتفاق ہر صنعت کار یا تاجر کے منصوبہ کے ساتھ نہیں ہوتے لیکن جن کے ساتھ ہوتے ہیں ان کے ساتھ مسلسل ہوا کرتے ہیں اور اس کے تجارتی فوائد بھی ملتے ہیں۔م