تحریک انصاف کو گرجا گھر گراؤنڈ میں جلسہ سے روک دیا گیا

,

   

سیالکوٹ ۔ عیسائی برادری کے اعتراض پر سیالکوٹ پولیس نے تحریکِ انصاف کو گرجا گھر گراؤنڈ میں جلسہ سے روک دیا ہے جس پر تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت آمنے سامنے آگئے ہیں۔ پولیس نے جلسہ گاہ کو خالی کرا لیا ہے جب کہ مبینہ مزاحمت پر عثمان ڈار سمیت کئی کارکنوں کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔ ادھر تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ہر صورت ہفتہ کو ہی جلسے پر اصرار کرتے ہوئے سیالکوٹ آنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عوامی رابطہ مہم کے تحت پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں پی ٹی آئی نے ہفتہ کو جلسہ کا اعلان کر رکھا ہے جس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان خطاب کریں گے۔ پی ٹی آئی انتظامیہ کے مطابق اْنہوں نے سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کو جلسہ کے لیے درخواست دی تھی۔ تحریکِ انصاف کا الزام ہے کہ مقامی پولیس ہفتہ کی صبح اس وقت جلسہ گاہ میں داخل ہو گئی جب جلسے کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی تھی۔ تحریکِ انصاف نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کے کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی جب کہ توڑ پھوڑ بھی کی۔ سربراہ تحریک انصاف عمران خان نے سیالکوٹ میں جلسہ گاہ کو خالی کرانے کو ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آج ہر صورت سیالکوٹ جائیں گے۔ دوسری جانب وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی جلسہ گاہ کا مقام تبدیل کر لے تو جلسہ کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ لاہور میں ایف آئی اے عدالت کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہ سیالکوٹ میں سی ٹی آئی گراؤنڈ میں جلسہ کرنے پر اقلیتی برادری کو اعتراض ہے، لہذٰا اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔