تحقیق کی نئی جہات کی تلاش ضروری ہے: پروفیسر خواجہ اکرام الدین

   

دکنی کے تحفظ پر زور۔ مانو کے شعبۂ اردو میں ریسرچ اسکالرس سے خطاب
حیدر آباد، 4؍اکتوبر(پریس نوٹ) : تحقیق میں موضوع کی اہمیت اور نئے نئے موضوعات کے انتخاب سے متعلق بات کرتے ہوئے سابق چیرمین قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے استاد پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کہا کہ آج کے دور میں تحقیق کی نئی جہات کی تلاش کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرز سے ایسے موضوعات کا انتخاب کرنے کے لیے کہا جس میں انفرادیت کے ساتھ ساتھ موضوعات کا تنوع بھی شامل ہو۔ پروفیسر خواجہ اکرام مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے ریسرچ اسکالرز سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبے میں آکر ایک روحانی مسرت کا احساس ہوا ہے۔ یہاں کے اساتذہ اردو شعر و ادب کی دنیا میں اپنی اہمیت، انفرادیت اور مقبولیت کی بدولت اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ میں یہ بات اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ تحقیقی موضوعات کی سطح پر جو تنوع میں نے یہاں کے طلبا میں دیکھا ہے وہ آج کل دانش گاہوں میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں کے طلبا جس سطح سے اپنے تحقیقی کام کو انجام دیتے ہیں اس میں ان کے اساتذہ کی محنت صاف طور پر نظرآتی ہے۔ انہوں نے دکنی اور اردو کے تعلق پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دکنی کی اپنی خصوصیات ہیں جس سے اردو کی تاب و توانائی میں اضافہ ہوا ہے مگر یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اب دکنی لکھنے، بولنے اور سمجھنے والے روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں۔ لہذا ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم دکنی کی حفاظت کا معقول بند وبست کریں۔پروگرام کی ابتدا میں صدر شعبۂ اردو پروفیسر نسیم الدین فریس نے مہمان پروفیسر خواجہ اکرام الدین کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر فاروق بخشی، ڈاکٹر مسرت جہاں ، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون کے علاوہ دوسرے شعبوں سے پروفیسر ظفر الدین اور ڈاکٹر امتیاز موجود تھے۔