ترون تیج پال عصمت ریزی مقدمہ

   

الزامات واپس لینے کی درخواست سپریم کورٹ نے مستردکردی
نئی دہلی 19 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے پیر کو تہلکہ میگزین کے بانی ترون تیج پال کی درخواست کو خارج کردیا جس میں اُنھوں نے اُن پر اپنی ساتھی کی جانب سے لگائے گئے عصمت ریزی کے الزام کو واپس لینے کی استدعا کی تھی۔ جسٹس ارون مشرا کی صدارت میں بنچ نے گوا کی نچلی عدالت کو ہدایت جاری کی کہ چھ ماہ کے اندر اُن کے کیس کو مکمل کرلیا جائے۔ ترون تیج پال پر الزام ہے کہ وہ 2013 ء میں گوا کی ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی لفٹ میں اپنی ساتھی کے ساتھ دست درازی کی تھی۔ اُن کی پیشگی ضمانت درخواست کی عدم منظوری پر 30 نومبر 2013 ء کو کرائم برانچ نے اُنھیں گرفتار کرلیا تھا۔ اُس کے بعد مئی 2014 ء سے وہ ضمانت پر رہا ہیں۔ 6 اگسٹ کو عدالت نے تیج پال پر اپنے فیصلہ کو محفوظ رکھا۔ گوا پولیس نے دعویٰ کیاکہ اُن کے اس وقت کے ای میلس اور واٹس ایپ پیغامات سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ اُن پر مقدمہ چلایا جاسکے اور پولیس نے اُن کے کیس کو واپس لینے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اُن کے خلاف مقدمہ کے لئے وافر ثبوت موجود ہیں۔ تیج پال نے 20 ڈسمبر 2017 ء کو بامبے ہائیکورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے اُن پر لگائے گئے الزامات کو واپس لینے کیلئے اپیکس کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔