ترکی میں جنسی تشدد کے خلاف انوکھا احتجاجی مظاہرہ

   

استنبول 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں عام رواج یہ ہے کہ مرنے والے کے جوتے گھر سے باہر دروازے پر رکھ دیئے جاتے ہیں۔ ایک ترک آرٹسٹ نے خانگی اور جنسی تشدد میں خواتین کی ہلاکتوں کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرکے خطرناک صنفی امتیاز کے خلاف بیداری پیدا کرنے کیلئے اس روایت کا بظاہر موثر فنکارانہ سہارا لیا ہے ۔واحت تیونا نامی اس فنکار نے اس کھلے ناسور اور اس سے رسنے والا خون کے منظر نامے کو 2018کے دوران خانگی اور جنسی تشدد میں ماری جانے والی خواتین کی یاد میں ایک انوکھے مظاہرہ میں بدل دیا ہے ۔ استنبول کی ایک مصروف شاہراہ کی ایک عمارت پر اونچی ایڑی والے 440 جوتے لٹکائے گئے ہیں۔یہ آرٹ ورک 260 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے ۔سوشل میڈیا پر اس کوشش کی کافی ستائش کی گئی ہے ۔یہ جوتے اُن خواتین کی یادگار کے طور پر نصب کئے گئے ہیں، جو گھریلو اور جنسی تشدد کی وجہ سے اپنی زندگیوں سے محروم ہوئیں۔واحت تیونا کو اس احتجاجی مظاہرے کے تعلق سے یقین ہے کہ دیکھنے والوں پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے ، ان کے اندر بیداری پیدا ہو گی اور وہ سوچنے پر مجبور ہوں گے ۔