ابتدائی رحجان میں صدر رجب طیب اردغان کو برتری
انقرہ؍ ترکی: ترکی میں اتوار کو ترکی کے قومی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں تقریباً 20 فیصد بیلٹ بکسوں کی گنتی کے بعد صدر رجب طیب اردغان کو ٹھوس برتری حاصل ہے۔ انادولو ایجنسی کی خبر کے مطابق، اردغان کو تقریباً 60 فیصد ووٹ ملے، جبکہ حزب اختلاف کے مرکزی رہنما کمال کلیک دار اوغلو نے 35 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے اتوار کو ووٹنگ ہوئی۔قومی انتخابات میں ووٹنگ کے نو گھنٹے کے بعد دوپہر کے آخر میں بند ہو گئی۔ 69 سالہ اردغان کو مزید پانچ سال کی مدت کے لیے عہدہ مل سکتا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق رائے دہی بہت اچھی رہی، لیکن سرکاری ووٹنگ فیصد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ تاہم سرکاری نتیجہ آنے میں 3 دن لگ سکتے ہیں۔اگر کوئی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرتا ہے تو فاتح کا تعین 28 مئی کو ہونے والے رن آف میں کیا جائے گا۔ 20 سال سے اقتدار میں رہنے والے صدر رجب طیب اردغان نے ووٹنگ کے بعد حامیوں کے لیے پیغام جاری کیا۔ کہاکہ بیلٹ بکس کی حفاظت کریں اور ان پر نظر رکھیں۔ ہمیں نتائج کا انتظار ہے۔صدارتی انتخاب میں ترک صدر اردوان اور اپوزیشن رہنما کمال قلیچ داراوغلو کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہی۔ ترکیہ کی تاریخ میں پہلی بار 24 پارٹیاں اور 151 آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ترکیہ اور ترکیہ سے باہر مقیم ساڑھے 6 کروڑ سے زائد ووٹرز نے رائے شماری میں حصہ لیا۔ صدارتی انتخابات میں طیب اردوان کو زبردست مقابلے کا سامنا ہے۔ ترک میڈیا کے مطابق صدارتی امیدوار کو کامیابی کے لیے 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔ انتخابات سے قبل ترک صدر اور ان کے حامیوں نے تاریخی آیا صوفیہ مسجد میں نماز ادا کی اور کامیابی کے لیے دعائیں مانگی۔