حملہ میں 15 افراد ہلاک، متعدد زخمی ، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ،ترکی پر سخت تحدیدات کی امریکی دھمکی
دمشق ۔ 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) شمال مشرقی شام میں ترکی نے فوجی فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کردی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ترک طیاروں کی بمباری سے 8 شہریوں سمیت 15 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردعان نے آپریشن سینٹر میں کارروائی کا جائزہ لیا، انہوں نے کہا کہ آپریشن شام کی جغرافیائی وحدت کا تحفظ کرے گا اور مقامی لوگ دہشت گردوں سے آزاد ہوں گے ۔دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈومنک راب کا کہنا ہے کہ ترکی کی یک طرفہ کارروائی ناقابل قبول ہے ، شام میں ترکی کی یک طرفہ فوجی کارروائی پر شدید تشویش ہے ۔ڈومینک راب کا کہنا تھا کہ ترک فوج کی کارروائی سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہوگا، انسانی مصائب میں اضافہ اور داعش کے خلاف پیشرفت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ نے شام میں ترک جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترک اقدام سے داعش کے خلاف عالمی کوششیں کمزور ہوں گی، خطہ کی سلامتی اور استحکام پر منفی اثرات پڑیں گے ۔صدر اردغان نے کرد ملیشیا کے خلاف اس عسکری مشن کو ‘آپریشن امن بہار‘ کا نام دیا تھا۔ اس پیغام کے کچھ ہی دیر بعد ترک فضائیہ نے شمالی شام میں شدید بمباری شروع کر دی تھی۔ بمباری کے بعد چہارشنبہ اور جمعرات کی درمیانی شب ترکی فوج کے زمینی دستے شمالی شام میں داخل ہو گئے۔اس سے قبل شمالی شام میں موجود امریکی افواج غیر متوقع طور پر علاقے سے نکل گئی تھیں۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ترک فوجی آپریشن میں واشنگٹن کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ترک فوجی آپریشن میں ‘ ممکنہ حد تک انسان دوستانہ رویہ‘ اختیار نہ کیا گیا تو وہ ‘ترک معیشت کو تباہ‘ کر دیں گے۔تازہ صورت حال کی روشنی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج جمعرات کو طلب کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب عرب لیگ نے بھی اپنی تنظیم کا ہنگامی اجلاس 12 اکتوبر کے روز مصری دارالحکومت قاہرہ میں طلب کر لیا ہے۔سعودی عرب نے بھی ترکی کے فوجی آپریشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے کی سلامتی اور جہادیوں کے خلاف جنگ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔دوسری طرف شام کے مسئلہ پر غور و خوض کیلئے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک میٹنگ کر نے جارہی ہے۔ترکی کی جانب سے شمالی شام میں اپنی فوجی مہم شروع کئے جانے کے بعد یہ میٹنگ بلائی جائے گی جسے کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں جنوبی افریقہ کے سفیر جیری متزلا نے چہارشنبہ کو کہا‘‘میں شام کے معاملہ پر بات چیت کیلئے کل صبح ایک میٹنگ بلانے کی کوشش کر رہا ہوں‘‘۔دریں اثناء امریکی سینیٹ کے رکن لنڈسے گراہم اور کرس وین ھولین نے ایک قرارداد پیش کیا ہے جس میں ترکی کے خلاف عائد کی جانے والے پابندیوں کی ایک وسیع رینج کا التزام ہے ۔یہ تجویز ترکی کی جانب سے شمالی شام میں اپنا فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد لایا گیا ہے ۔تجویز کے تحت اگر ترکی 90 دن کے اندر اندر امریکی کانگریس کے سامنے یہ ثابت نہ کر پایا کہ شام میں اس نے اپنی یکطرفہ فوجی مہم کو روک دیا ہے اور اپنی فوجوں کو ان علاقوں سے واپس بلا لیا ہے جہاں انہیں 9 اکتوبر سے اپنی مہم کی شروعات کی تھی، تو اس پر اس تجویز کے تحت سخت لازمی پابندی عائدکی جائے گی۔اس قرارداد کے تحت یہ پابندی ترکی کے صدر، نائب صدر کے ساتھ ساتھ سیکورٹی ، غیر ملکی معاملات، کاروبار، توانائی اور قدرتی وسائل اور فنڈ اور وزیر خزانہ پر بھی لاگو ہوں گے ۔ اس تجویز کے تحت ترکی کے سب سے اوپر کی قیادت پر ویزا سے متعلق پابندی بھی لگائے جائیں گے ۔
