انقرہ: ترک افواج نے گزشتہ ہفتے شمالی عراق اور شمالی شام میں سرحد پار کارروائیوں میں 24 کرد جنگجوؤں کو ہلاک کیا، یہ بات ترک وزارت دفاع نے بتائی۔کرد گروپوں کے خلاف کارراوئی دمشق میں شامی کردوں اور مرکزی حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے بعد ہوئی، اس کے ساتھ ہی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کی جانب سے ترکی کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان بھی کیا گیا۔وزارت کے ترجمان زیکی اکترک نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ جنوری سے اب تک کل 502 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں، جن میں شمالی شام میں کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے 296 ارکان اور شمالی عراق میں پی کے کے کے 206 ارکان شامل ہیں۔ترکی امریکہ اور یورپی یونین ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر درج پی کے کے تین دہائیوں سے ترک حکومت کے خلاف بغاوت کر رہی ہے ۔ انقرہ وائی پی جی کو پی کے کے کی شامی شاخ تصور کرتا ہے ۔کرد زیرقیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز اور شام کی عبوری حکومت کے درمیان پیر کو ایک تاریخی معاہدہ طے پایا جس کے تحت کردوں کے زیر کنٹرول علاقے میں تمام سویلین اور فوجی اداروں کو ریاستی اداروں میں ضم کر دیا جائے گا۔اگرچہ ترکی کی نیم سرکاری انادولو ایجنسی کی جانب سے جمعرات کو جاری ایک رپورٹ کے مطابق، جس میں وزارت دفاع کے ایک نامعلوم ذریعے کا حوالہ دیا ہے ، اس معاہدے سے شام میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ترکی کے عزم میں کوئی تبدیل نہیں آئے گی۔