اگرتلہ ۔ یکم اکٹوبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) تریپورہ کے تمام مندروں میں جانداروں کی قربانی دیئے جانے پر ریاستی ہائیکورٹ کے امتناع کو چیلنج کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں خصوصی درخواست رخصت دائر کرنے کا فیصلہ کی ہے ۔ تریپورہ کے وزیر قانون و پارلیمانی اُمور رتن لال ناتھ نے کہاکہ تریپورہ ہائیکورٹ کے فیصلہ پر ریاست میں عوام ملے جلے ردعمل کا اظہار پایا گیا ہے چنانچہ ریاستی حکومت ، اس مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کی ہے۔ ناتھ نے پیر کی شب اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہائیکورٹ کے فیصلے کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن ایک حساس مسئلہ پر اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیکھا گیا ہے ۔ اس ضمن میں وسیع تر پہلو پر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے چنانچہ ریاستی حکومت اس حکمنامہ پر سپریم کورٹ میں خصوصی درخواست رخصت دائر کرنے کا فیصلہ کی ہے‘‘ ۔ رتن لال ناتھ نے کہاکہ مذہب ایک شخصی معاملہ ہے ۔ ہندوؤں کے کئی طبقات و فرقے ہیں کوئی بھی کسی طریقہ رسم و رواج کو پسند کرسکتا ہے ۔ تانترک یہ مانتے ہیں کہ قربانی کے بغیر کوئی پوجا مکمل نہیں ہوسکتی ۔ ہم کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنا نہیں چاہتے ۔ تریپورہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سنجوئے کارول اور جسٹس ارندم لودہ پر مشتمل ایک ڈیویژن بنچ نے 27 ستمبر کو اعلان کیا تھاکہ بشمول ریاست کسی بھی فرد کو ریاست تریپورہ میں واقع کسی بھی مندر کے احاطہ میں کسی جانور یا پرندہ کو قربان کرنے ( بلی چڑھانے) کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ مذہبی مقاصد کے لئے جانوروں کی قربانی پر ہائیکورٹ کے امتناع کے باوجود ضلع گومتی کے تویپوریشوری مندر میں پرندوں اور جانوں کو بلی چڑھانے کا عمل بلا رکاوٹ جاری ہے۔ مندر کے منتظم مانگ دتا نے کہا کہ انھیں عدالت کے احکام موصول نہیں ہوئے ہیں۔