اگرتلہ: تریپورہ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا اور سماجی انصاف اور تفویض اختیار کی مرکزی وزیر پرتیما بھومک کے درمیان جاری رسہ کشی پیر کو ریاست کے سپاہیجالا ضلع میں سون مورا ایس ڈی ایم دفتر کے سنگ بنیاد کی تقریب میں سب کے سامنے ظاہر ہوگئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا۔پولیس ذرائع نے منگل کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ کے پہنچنے اور تقریب کا باضابطہ افتتاح کرنے سے پہلے بھومک نے ضابطے کی خلاف ورزی کرکے تقریر کرنے اسٹیج پر چلی گئیں۔ جب وزیر اعلیٰ پنڈال میں پہنچے تو وہ اسٹیج سے نیچے اتر گئیں اور لوگوں کی بڑی تعداد ان کے ساتھ تقریب چھوڑ کر چلی گئی۔ضلع مجسٹریٹ اور دیگر عہدیدار جنہوں نے تقریب کا اہتمام کیا تھا وہ اس واقعہ سے شرمندہ ہوگئے اور کسی طرح لوگوں کو اس وقت تک روکے رکھا جب تک کہ وزیر اعلیٰ پروگرام کے لئے روانہ نہیں ہو گئے ۔ بھومک کے وزیر اعلیٰ کی آمد سے قبل اسٹیج پر جاکر تقریر کرنے کے واقعہ کی ضلع مجسٹریٹ وضاحت نہیں کر سکے ۔تاہم، سیپاہیجالا ضلع مجسٹریٹ وشواسری بی نے اس حقیقت کو قبول کرتے ہوئے کہا ‘‘مرکزی وزیر کے دوسرے پروگراموں کی وجہ سے ، انہوں نے اپنی تقریر پہلے شروع کر دی تھی اور وزیر اعلی سے اجازت لے کر وہاں سے چلی گئی تھیں۔ عوامی تقریبات میں لوگ آتے جاتے ہیں جن پر قابو نہیں ہے ۔پارٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ساہا کو وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے دور اقتدار کے پہلے ہی دن سے اپنے پیشرو بپلب کمار دیب اور پرتیما بھومک کے عدم تعاون کا سامنا ہے ۔ پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ پارٹی لیڈران کا ایک گروپ اور کابینہ میں شامل کچھ وزرا بھی وزیراعلی کے خلاف حکمرانی میں رکاوٹ ڈالنے اور گروپ بازی کرنے میں سرگرم ہیں۔ پارٹی میں اختلاف کی وجہ سے اپوزیشن کو حوصلہ مل رہا ہے۔لیڈروں نے کہا کہ ڈاکٹر ساہا کے خلاف ایک گروپ سرگرم عمل ہے جس نے انہیں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ضمنی انتخاب میں ہرانے کی بھرپور کوشش کی۔
لیکن ڈاکٹر ساہا کی شبیہ اور مضبوط انتخابی انتظامیہ کی وجہ سے وہ ناکام رہے ۔ اسمبلی انتخابات سے قبل یہ گروہ انتشار پھیلانے اور وزیر اعلیٰ کو بدنام کرنے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے ۔