تعطل کے خاتمہ کیلئے شیوسینا لیڈر کی آر ایس ایس سے مدد کی درخواست

   

نتن گڈکری دو گھنٹوں میں مسئلہ حل کرسکتے ہیں، موہن بھاگوت کو کشور تیواری کا مکتوب
ناگپور 5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کے سبب تشکیل حکومت کے سوال پر پیدا شدہ اُلجھن و تعطل کے درمیان شیوسینا کے ایک زرعی جہدکار کشور تیواری نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے درخواست کی ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مرکزی وزیر نتن گڈکری کو تعینات کریں۔ کشور تیواری نے جو اسمبلی انتخابات سے عین قبل شیوسینا میں شامل ہوئے تھے، بھاگوت کے نام اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ آر ایس ایس سربراہ کو چاہئے کہ اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹ لیں نیز تشکیل حکومت کے لئے پیدا شدہ تعطل کے خاتمہ کے لئے مداخلت کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ اس مسئلہ پر سنگھ (آر ایس ایس) کی خاموشی سے لوگ فکرمند و پریشان ہیں۔ بھاگوت کے نام اپنے مکتوب کے بارے میں ایک سوال پر تیواری نے کہاکہ ’گڈکری‘ دو گھنٹوں میں یہ مسئلہ حل کرسکتے ہیں‘۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ بی جے پی میں گڈکری کو درکنار کردیا گیا ہے اور کہاکہ اگر پارٹی یا امیت شاہ اُنھیں (گڈکری کو) مداخلت و صلح صفائی کروانے کا اختیار دیتے ہیں تو وہ صرف دو گھنٹوں میں یہ تعطل ختم کرسکتے ہیں‘۔ تیواری نے جو مہاراشٹرا بالخصوص ودربھا علاقہ میں کسانوں کی بڑے پیمانے پر ہونے والی خودکشیوں کو اُجاگر کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ودربھا جن آندولن سمیتی کے بانی بھی ہیں، 24 اکٹوبر کو منعقدہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے عین قبل بی جے پی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے شیوسینا میں شامل ہوئے تھے۔ چیف منسٹر کے عہدہ کی تقسیم کے مسئلہ پر بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان تعطل جاری ہے۔ شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے چیف منسٹر کے عہدہ کی میعاد کی دونوں جماعتوں کے مابین مساویانہ تقسیم کے لئے اصرار کررہے ہیں لیکن بی جے پی ان کا مطالبہ مسترد کرچکی ہے۔ شیوسینا کے ایک رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ادعا کیا ہے کہ آئندہ چیف منسٹر ان کی پارٹی کا ہی ہوگا۔ اس ضمن میں نئی دہلی اور ممبئی میں منعقدہ کئی اعلیٰ سطحی اجلاس ریاست میں تشکیل حکومت کے سوال پر پیدا شدہ 11 روزہ تعطل کے خاتمہ کے لئے کوئی اشارہ نہیں دے سکے۔