سرکاری اسکولوں کی ابتر صورتحال، راؤنڈ ٹیبل اجلاس سے پروفیسر کودنڈا رام کا خطاب
حیدرآباد ۔6 ۔ فروری (سیاست نیوز) ماہرین تعلیم اور رضاکارانہ تنظیموں نے تلنگانہ میں تعلیم کے لئے ریاستی بجٹ میں 20 فیصد فنڈس مختص کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تعلیمی شعبہ کی ترقی کیلئے موجودہ 7.5 فیصد بجٹ ناکافی ہے ۔ حیدرآباد میں ایم وی فاونڈیشن کی جانب سے سرکاری سطح پر تعلیمی سہولتوں کے موضوع پر اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اجلاس میں شریک مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شہر اور اضلاع کے سرکاری تعلیمی اداروں کی ابتر صورتحال پر رپورٹ پیش کی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گدوال ، رنگا ریڈی ، حیدرآباد اور ملکاجگری کے 8 منڈلوں میں واقع 153 سرکاری اسکولوں میں 73 اسکول ایسے ہیں جہاں مڈ ڈے میلس کے پکوان کے لئے علحدہ شیڈ موجود نہیں ہے ۔ 69 اسکولوں میں طلبہ اور طالبات کیلئے علحدہ ٹائلیٹس نہیں ہیں اور 92 اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کی اسکیم پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ رضاکارانہ تنظیموں نے کہا کہ اسکولی تعلیم کیلئے بجٹ میں فنڈس کی کمی مسائل کی اہم وجہ ہے۔ راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں ماہرین نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی ہے اور حکومت کو چاہئے کہ بجٹ کا 20 فیصد حصہ تعلیم کے شعبہ کے لئے مختص کرے۔ پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ سرکاری اسکولس سماج میں یکسانیت کا درس دیتے ہیں اور یہ اسکولس معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ انہوں نے موجودہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ عوامی تحریک کے ذریعہ یہ ممکن ہے ۔ کودنڈا رام نے کہا کہ سماجی تبدیلی سرکاری اسکولوں سے لائی جاسکتی ہے ۔ کئی مقامات پر اسکولس تو موجود ہیں لیکن طلبہ کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اسکولوں میں بنیادی انفراسٹرکچرکی کمی کے سبب عوام بچوں کو داخلہ دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ سابق رکن کونسل نرسی ریڈی نے اسکولوں کی ابتر صورتحال سے واقف کرایا۔ اجلاس میں حکومت سے متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ بجٹ میں 20 فیصد فنڈس تعلیم کیلئے مختص کئے جائیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت بجٹ میں شعبہ تعلیم کی حصہ داری 11 فیصد تھی جو گھٹ کر 7.5 فیصد ہوچکی ہے۔ 1