ہزاروں اسکول بند کردیئے گئے، کے جی تا پی جی تعلیم کا وعدہ ادھورا : محمد علی شبیر
حیدرآباد۔/19 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت خانگی تعلیمی اداروں کو فیس کے معاملہ میں کنٹرول کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ریاستی کابینہ نے خانگی تعلیمی اداروں کی فیس میں باقاعدگی پیدا کرنے کیلئے کابینی سب کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت خانگی تعلیمی اداروں کو گزشتہ سات برسوں میں طلبہ سے لوٹ کو روکنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ داخلوں اور فیس کے سلسلہ میں ریگولیٹری کمیٹی قائم کی گئی تھی جو بے اثر ثابت ہوئی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کابینی سب کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے کم از کم چھ تا آٹھ ماہ کا وقت درکار ہوگا اور چیف منسٹر خود چاہتے ہیں کہ آئندہ تعلیمی سال تک فیس پر کنٹرول نہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو غریب طلبہ سے لوٹنے کیلئے مزید ایک سال کا وقت دیا جارہا ہے۔ ٹی آر ایس نے 2014 میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدہ کی تکمیل نہیں ہوسکی۔ 2014 میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 43293 تھی جو 2019 میں 40900 ہوچکی ہے۔ حکومت نے گزشتہ سات برسوں میں ہزاروں اسکولوں کو بند کردیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اسکولوں کو بند کرتے ہوئے اساتذہ کی جائیدادوں پر تقررات نہیں کئے گئے اور نہ ہی موجودہ اسکولوں میں انفرااسٹرکچر سہولتیں فراہم کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ 6 اگسٹ 2009 کو کانگریس حکومت نے جی او ایم ایس 91 جاری کیا تھا جس کا مقصد فیس اسٹرکچر کو باقاعدہ بنانا تھا۔ ٹی آر ایس حکومت نے کانگریس حکومت کے جی او پر عمل آوری نہیں کی ہے۔ پروفیسر تروپتی راؤ کمیٹی نے 2011 میں حکومت کو رپورٹ پیش کی لیکن ٹی آر ایس حکومت رپورٹ پر عمل آوری سے قاصر ہے۔ر