تعلیمی اداروں کی کشادگی و ٹیکہ اندازی پر چیف منسٹر کا آج اجلاس

   

ریاستی وزراء اور ضلع کلکٹرس کی شرکت، سنکرانتی کے بعد باقاعدہ کلاسیس کی اجازت کا امکان
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں تعلیمی اداروں کے آغاز، ریوینو اور بلدی نظم و نسق کے علاوہ دیگر اہم محکمہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 11 جنوری پیر کے دن پرگتی بھون میں اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ ریاستی وزراء کے علاوہ تمام اضلاع کے کلکٹرس کو شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت نے حالیہ عرصہ میں ریوینو، بلدی نظم و نسق، رجسٹریشن اینڈ اسٹامپ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے قانونی ترمیمات کی ہیں۔ حکومت کے فیصلوں پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے اجلاس میں رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں گے۔ کورونا بحران اور لاک ڈاؤن کے بعد سے تلنگانہ میں تعلیمی ادارے بند ہیں۔ آندھرا پردیش اور بعض دیگر ریاستوں میں تعلیمی اداروں کی کشادگی عمل میں آئی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ باقاعدہ کلاسیس کا آغاز ہوچکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں دیگر ریاستوں میں تعلیمی اداروں کی کشادگی کے سلسلہ میں اختیار کی گئی احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیتے ہوئے سنکرانتی کے بعد اسکولوں کے آغاز کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسکولوں کے انتظامیہ اور اولیائے طلبہ کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی کشادگی کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ باقاعدہ کلاسیس کے ذریعہ طلبہ کو سالانہ امتحانات کیلئے تیار کیا جاسکے۔ کئی اسکولوں نے آن لائن کلاسیس کا اہتمام کیا تھا لیکن آن لائن کلاسیس کے سلسلہ میں طلبہ اور اولیائے طلبہ کا ردعمل حوصلہ افزاء نہیں رہا۔ فیس کی ادائیگی سے بچنے کیلئے کئی غریب و متوسط خاندانوں نے اپنے بچوں کو آن لائن کلاسیس سے دور رکھا تھا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت چھٹویں یا پھر نویں جماعت سے باقاعدہ کلاسیس کے آغاز کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ موجودہ تعلیمی نصاب میں کمی کرتے ہوئے طلبہ کو امتحانات کیلئے تیار کیا جاسکتا ہے۔ چھوٹی جماعتوں کے طلبہ کو امتحان کے بغیر دوسری مرتبہ پرموٹ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر اجلاس میں وزراء اور کلکٹرس کی رائے حاصل کرتے ہوئے اسکولوں کے بارے میں مثبت فیصلہ کریں گے۔ ریاست میں کورونا کیسس میں کمی کے پیش نظر اسکولوں کے آغاز میں حکومت کو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کورونا کیسس پر قابو پانے کیلئے احتیاطی تدابیر جاری رکھنے کے علاوہ 16 جنوری سے ملک بھر میں شروع ہونے والی ٹیکہ اندازی کے انتظامات کو بھی قطعیت دی جائے گی۔