اولیائے طلبہ کو اسکولوں کے پیامات، آن لائن کلاسیس سے محرومی کا اندیشہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ کے اسکولوں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تیاریوں کے سلسلہ میں اولیائے طلبہ کو فیس کے بقایا جات اور نئے سال کی فیس ادا کرنے کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ بیشتر اسکولوں کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 5 تا 10 جون کے درمیان آن لائن کلاسیس شروع کی جارہی ہیں اور صرف وہی طلبہ آن لائن کلاسیس سے استفادہ کرپائیں گے جنہوں نے فیس ادا کی ہو۔ کورونا وباء کے پیش نظر مکمل تعلیمی سال آن لائن کلاسیس کے ساتھ گذر گیا اور حکومت نے امتحانات کے بغیر ہی اسکولی بچوں کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایس ایس سی کے امیدواروں کو بھی امتحانات کے بغیر پروموٹ کردیا گیا۔ اب جبکہ حکومت نے تعلیمی سال کے آغاز کو یکم جون کے بجائے 15 جون کی تاریخ طئے کی ہے باوجود اس کے خانگی اسکول انتظامیہ کی جانب سے طلبہ و سرپرستوں پر گزشتہ تعلیمی سال کے بقایا جات اور نئے سال کے پہلے سہ ماہی کی فیس ادا کرنے کیلئے میاسیجس روانہ کئے جارہے ہیں۔ بعض اسکولوں نے ٹیلی فون پر سرپرستوں سے ربط قائم کیا ہے۔ اسکولوں کا کہنا ہے کہ اگر فیس مکمل طور پر کلیر نہیں کی گئی تو طلبہ آن کلاسیس سے محروم رہیں گے۔ واضح رہے کہ کورونا کے باعث اسکولوں میں باقاعدہ کلاسیس کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا اور آن لائن کلاسیس منعقد کی گئیں جس میں ان ہی طلبہ کو شریک کیا گیا جنہوں نے سہ ماہی کی فیس ادا کی ہو۔ شہر کے مختلف خانگی تعلیمی اداروں نے 10 تا 30 فیصد کی رعایت کے ساتھ فیس کا شیڈول جاری کردیا ہے۔ گزشتہ تعلیمی سال خانگی اسکولوں کے اساتذہ کو 30 تا50 فیصد تنخواہ ادا کی گئی تھی۔ بجٹ اسکولوں میں ٹیچرس کو تنخواہوں سے محروم رکھا گیا جس کے بعد حکومت نے ماہانہ 2 ہزار روپئے کی امداد کا اعلان کیا۔ اب جبکہ کورونا کی تیسری لہر کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں لہذا اسکولوں میں باقاعدہ کلاسیس کا آغاز پھر ایک بار غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوچکا ہے۔