صنعاء: یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر جمعہ کو ڈرون حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق اسرائیلی فوج اور ایمرجنسی سروسز نے ڈرون حملے میں شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ یمن کے حوثی باغیوں کے ترجمان یحیٰ ساری نے ایک بیان میں کہا ہیکہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے اسرائیل کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہیکہ فوج نے ڈرون حملے کے بعد ہنگامی الارم نہ بجنے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ البتہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ڈرون کی شناخت کر لی گئی تھی لیکن انسانی غلطی کی وجہ سے سائرن نہیں بجے تھیاسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہیکہ ڈرون حملے کے بعد فضائی حدود کی حفاظت کیلئے فضائی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔تل ابیب کے میئر کا کہنا ہیکہ ملک کے معاشی شہر میں ڈرون حملے کے بعد ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینئل ہگاری نے جمعے کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فوج کے اندازے کے مطابق ڈرون ایرانی ساختہ صمد تھری کا جدید ماڈل ہے جسے یمن سے تل ابیب کی جانب فائر کیا گیا تھا۔دوسری جانب حوثی ترجمان یحیٰ ساری نے ٹی وی پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ تل ابیب ان کا اہم ہدف ہے جو ان کے ہتھیاروں کی رینج میں آتا ہے۔ترجمان کے بقول جمعے کو ہونے والے حملے میں ‘یفا’ نامی ایک نیا ڈرون استعمال کیا گیا ہے جو ریڈار اور میزائل شکن نظام سے بچ کر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ آپریشن کے دوران کامیابی سے ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔حوثیوں نے تل ابیب میں جس عمارت کو نشانہ بنایا وہ امریکی سفارت خانے سے بالکل قریب واقع ہے۔اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہیکہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ٹکڑوں سے معلوم ہوتا ہیکہ اس طرح کے ڈرون ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروپس استعمال کرتے ہیں۔
